The Pied Piper and the lost children

The Pied Piper and the lost children

 akistani opposition politician Imran Khan (C) addresses the supporters during a protest march against the country's Pakistan Muslim League-Nawaz-led government in Islamabad on August 18, 2014. — Photo by AFP


PESHAWAR: The young Peshawarites, who voted for Pakistan Tehreek-i-Insaf in May 11 general elections think Imran Khan’s call for ‘civil disobedience’ is useless and the language he used during that address was very ‘uncivil’.
“I never expected that Imran Khan with his education and brought up would use such bad language,” said Yasir Afridi, who voted for PTI in the last general election along with his other family members.
“Not only me but all the 30 members of my family who voted for PTI, now regret to have voted for this party,” he said disappointedly.
The agenda of ‘change’ had mesmerised the youth in many parts of Khyber Pakhtunkhwa. The charismatic personality of former cricket star Imran Khan pulled crowds of youth whenever he liked to speak.
The number of youth, who enrolled in Tabdeeli Razakaar Programme of PTI before elections to propagate the party agenda, showed that how their expectations were raised. In the elections, people especially housewives who had not visited a polling station in their entire life also voted for bat, the election symbol of PTI.
PTI was voted into power in Khyber Pakhtunkhwa because its chairman had promised to bring change within 90 days if voted to power. One-and-a-half year later, after getting elected to power in Khyber Pakhtunkhwa, nothing seems to have changed.
“The only thing that has changed is my opinion about PTI. That is a good change I guess,” said Irfan Ali, another youth from Swabi who voted for PTI in the previous elections.
While some show disappointment with the way PTI, especially its chairman, has treated the people of Khyber Pakhtunkhwa, many who voted for ‘bat’ do not even like to remember now why they voted for PTI in the first place.
“I had lost my mind, I guess, when I voted for PTI,” retorted Saeed Khan, who voted for PTI because he liked cricket and was a big fan of Imran Khan. He thought that since Imran Khan had no history of corruption and was a young politician, he would be different from others.
“He is different all right but not the way I thought he was,” said Saeed, who vowed that he would never vote for PTI again.
Some housewives feel that it was good for them to support PTI in the elections as it helped them to clear their mind. “They won’t commit such a mistake again.”
Many of the PTI voters from Peshawar seem disappointed as according to them the province hasn’t witnessed any change but the speeches of Imran Khan since Aug 14 has made things clearer. Those who still love Imran Khan, the cricketer, have no reason for it.
“Don’t say anything against Imran Khan. I can’t explain but I like him too much,” said Rehman Wazir, a middle age voter of PTI.
Imran Khan during his recent Azadi March speeches proudly said that if there was a re-election in Khyber Pakhtunkhwa, the position of his party would be the same. However, reality is different. The disgruntled MPAs of PTI, who had formed a pressure group, had conveyed to the party’s chairman that how disappointing the performance of the PTI-led provincial government was.
A minister and an adviser to the chief minister were removed for ‘bad performance’ but it still didn’t make any difference. “The party should not expect winning the next general elections on the basis of its performance,” this was clearly conveyed by the pressure group to the chairman.
“I thought things would be different. We would get good jobs but look what is happening in Islamabad. What good in it is for us,” said Irfan, who feels Imran Khan just wants to become prime minister.
The people of Khyber Pakhtunkhwa seem to have always shown a reactionary approach when it comes to voting political parties. The people here voted, tried and dumped Mutahidda Majlis-i-Amal, an alliance of the politico-religious parties in post- 9/11 scenario.
Then the people of Khyber Pakhtunkhwa voted for a nationalist political party in the province, which was and still is targeted for calling terrorist a terrorist.
The propaganda about its ‘corruption’ which started against it within the first few months of its rule also created mistrust among the people. The party lost badly because of bad performance but also because of ‘pre-poll rigging’ since its workers and leaders were targeted by terrorists during the election campaign.
Some people simply voted for PTI that there would be no more suicide attacks since it was not as anti-Taliban as Awami National Party. The people, who wanted a ‘change’ also voted for PTI. More than a year since it is in power, ‘Naya Khyber Pakhtunkhwa’ doesn’t look any different. It still has its problems as any other city of the country.
Like the Pied Piper of Hamlin who rid the city of mice but also ended up leading the children away into nothingness, the youth who voted PTI just because they had high hopes from Imran Khan look like the lost children.
Published in Dawn, August 19th, 2014

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کو گیارہ مئی کے عام انتخابات میں ووٹ دینے والے پشاوری نوجوان سوچتے ہیں کہ عمران خان کی ’سول نافرمانی‘ کی کال بے کار ہے اور اپنی تقریر کے دوران جو زبان انہوں نے استعمال کی وہ ’غیرمہذب‘ تھی۔
یاسر آفریدی جنہوں نے پچھلے عام انتخابات میں اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، کہتے ہیں ’’مجھے کبھی توقع نہیں تھی کہ عمران خان تعلیمیافتہ ہونے کے باوجود اس طرح کی خراب زبان استعمال کریں گے۔‘‘
انہوں نے مایوسی کے عالم میں کہا ’’ناصرف میں بلکہ میرے خاندان کے تیس افراد جنہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، اب افسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اس پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔‘‘
تبدیلی کے ایجنڈے نے خیبر پختونخوا کے بہت سے حصے میں نوجوانوں پر سحر طاری کردیا تھا۔ سابق کرکٹ اسٹار عمران خان کی کرشماتی شخصیت نوجوانوں کے ہجوم جب چاہتی کھینچ لاتی تھی۔
نوجوانوں کی بڑی تعداد نے انتخابات سے قبل پارٹی ایجنڈے کی تشہیر کے لیے پی ٹی آئی کے تبدیلی رضاکار پروگرام میں اپنے ناموں کا اندارج کرایا تھا، سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی توقعات کس قدر بڑھی ہوئی تھیں۔
انتخابات کے دوران خاص طور پر ایسی خواتین نے بھی پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلّے کو ووٹ ڈالا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی پولنگ اسٹیشن نہیں دیکھا تھا۔
پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کے لیے خیبر پختونخوا میں اس لیے ووٹ ڈالے گئے تھے کہ اس کے چیئرمین نے وعدہ کیا تھا کہ اگر انہیں اقتدار میں لایا گیا تو نوّے دنوں کے اندر تبدیلی آجائے گی۔
تاہم خیبر پختونخوا کے اقتدار کے لیے منتخب ہونے کے ڈیڑھ سال گزرجانے کے بعد کسی قسم کی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
ایک اور نوجوان عرفان علی، جن کا تعلق صوابی سے ہے، انہوں نے بھی پچھلے انتخابات میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، ان کا کہنا ہے ’’اگر کوئی چیز تبدیل ہوئی ہے تو وہ پی ٹی آئی کے بارے میں میری رائے ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک اچھی تبدیلی ہے۔‘‘
جبکہ پی ٹی آئی کے طریقہ کار سے کچھ نے مایوسی کا اظہار کیا، خاص طور پر اس کے چیئرمین نے خیبر پختونخوا کے لوگوں کے ساتھ جس طرز کا برتاؤ کیا، یہاں تک کہ بہت سے ایسے لوگ جنہوں بلّے کو ووٹ دیا تھا، اب اسے یاد کرنا بھی پسند نہیں کرتے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں دیا تھا۔
سعید خان نے جواب دیا ’’جب میں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، تب میں نے اپنا ہوش کھو دیا تھا۔‘‘
انہوں نے پی ٹی آئی کو اس لیے ووٹ دیا تھا کہ وہ کرکٹ کو پسند کرتے تھے اور عمران خان کے بہت بڑے پرستار تھے۔ ان کا خیال تھا کہ عمران خان کے ماضی پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں ہے اور وہ ایک نوجوان سیاستدان ہیں، وہ دوسروں سے کچھ مختلف کریں گے۔
سعید خان نے کہا ’’یہ ٹھیک ہے کہ وہ مختلف ہیں لیکن اس طرح نہیں جیسا کہ میں نے سوچا تھا۔‘‘ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ کبھی پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دیں گے۔
کچھ گھریلو خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت کرنا ان کے لیے اچھا تھا، اس سے ان کے ذہن پر حقیقت واضح ہونے میں مدد ملی۔ ’’انہوں نے عہد کیا ہے کہ آئندہ ایسی غلطی کبھی نہیں کریں گی۔‘‘
پشاور سے تعلق رکھنے والے بہت سے پی ٹی آئی کے ووٹرز مایوس دکھائی دے رہےہیں، ان کے خیال میں صوبے میں کسی قسم کی تبدیلی کا مشاہدہ نہیں ہوا ہے، لیکن چودہ اگست سے عمران خان کی تقریروں سے بہت سی چیزیں واضح ہوئی ہیں۔ ایسے لوگ جو بطور کرکٹر عمران خان کو پسند کرتے ہیں، ان کے پاس اس کا کوئی جواز موجود نہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک درمیانی عمر کے ووٹر رحمان وزیر کہتے ہیں ’’عمران خان کے خلاف کچھ نہ کہو۔ میں اس کی وضاحت نہیں کرسکتا، لیکن میں انہیں بہت زیادہ پسند کرتا ہوں۔‘‘
عمران خان نے اپنے آزادی مارچ کے دوران کی گئی تقاریر میں فخریہ کہا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا میں دوبارہ انتخابات کروائے گئے، تو ان کی پارٹی دوبارہ اپنی پوزیشن حاصل کرلے گی۔
تاہم حقیقت اس کے برخلاف ہے۔
پی ٹی آئی کے ناراض اراکین صوبائی اسمبلی، جنہوں نے ایک پریشر گروپ بھی تشکیل دیا تھا، اپنی پارٹی کے چیئرمین کو آگاہ کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کی قیادت میں صوبائی حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مایوس ہیں۔
ایک وزیر اور وزیراعلٰی کے ایک مشیر کو ’خراب کارکردگی‘ پر برطرف کیا گیا تھا، لیکن اس سے اب بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ یہ واضح طور سے پریشر گروپ کی جانب سے چیئرمین کو آگاہ کردیا گیا تھا کہ ’’پارٹی کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کی توقع نہیں کرنی چاہیٔے۔‘‘
عرفان جو محسوس کرتے ہیں کہ عمران خان صرف وزیراعظم بننا چاہتے ہیں، ان کا کہنا ہے ’’میرا خیال تھا کہ چیزیں مختلف ہوجائیں گی۔ ہم اچھی ملازمتیں حاصل کریں گے، لیکن دیکھیے کہ اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے۔ اس میں ہمارے لیے کیا اچھا ہے۔‘‘
ایسا لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے وقت ردّعمل پر مبنی رویّے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ نائن الیون کے بعد کے منظرنامے میں تشکیل پانے والے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو انہوں نے ووٹ دیا، آزمایا اور پھر مسترد کردیا۔
اس کے بعد خیبر پختونخوا کے عوام نے صوبے میں ایک قوم پرست سیاسی جماعت کو ووٹ دیا، جو پہلے بھی دہشت گردوں کے نشانے پر تھی، اور اب بھی ہے۔
اس کی بدعنوانی کے بارے میں اس کے خلاف پروپیگنڈا اس کی حکمرانی کے پہلے چند مہینوں میں ہی شروع ہوگیا تھا، جس نے عوام میں بداعتمادی کو جنم دیا۔
اس پارٹی کی ناکامی اس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے تھی، لیکن اس کے علاوہ انتخابات سے پہلے دھاندلی کی وجہ سے بھی اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں اس کے کارکنوں اور رہنماؤں کو انتخابی مہم کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
کچھ لوگوں نے محض اس لیے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا کہ صوبے میں خودکش حملے مزید نہیں ہوں گے، اس بنا پر کہ یہ عوامی نیشنل پارٹی کی طرح طالبان مخالف نہیں ہے۔
ایسے لوگ جو تبدیلی چاہتے تھے، انہوں نے بھی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا۔ اقتدار میں ایک سال سے زیادہ عرصہ رہنے کے بعد ’نیا خیبر پختونخوا‘ میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیا۔ یہاں اب بھی وہی مسائل ہیں، جو ملک کے کسی بھی دوسرے شہر میں ہوسکتے ہیں۔
ہیملن کے پائیڈ پائپر نے اس شہر کو چوہوں سے چھٹکارا دلایا تھا، لیکن وہ بچوں کو بھی ایسی جگہ لے گیا، جس کا کسی کو علم نہیں تھا، بالکل اسی طرح ایسے نوجوان جنہوں نے پی ٹی آئی کو اس لیے ووٹ دیا تھا کہ انہیں عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں تھیں، گمشدہ بچوں کی مانند ہیں۔

Leave a Reply