Showing posts with label Mianwali. Show all posts
Showing posts with label Mianwali. Show all posts

ECP pushed the lever of FLUSH to clean the shitty petition by PTI !!

NA-71 by-election: ECP dismisses PTI's claim of rigging in Mianwali



LAHORE: The Election Commission of Pakistan (ECP) dismissed Pakistan Tehreek-e-Insaf’s (PTI) claim that the by-election held in NA-71 Mianwali was rigged, Express News reported on Tuesday.
Last month, PTI had filed a petition with the ECP challenging the victory of Pakistan Muslim League-Nawaz’s (PML-N) Obaidullah Shadi Khel with claims of rigging in NA-71.
Obaidullah had won with 69,799 votes while Malik Waheed managed to attract 56,504.
PTI had accused the federal and Punjab governments of committing vote fraud in the constituency, submitting video recordings of allegedly rigged polling at different stations as evidence.
They had also claimed that their original candidate for NA-71 Ayla Malik, was kept out of the race through connivance with the Rawalpindi Board of Education, which raised objections to her degree.
Accusing the returning officer (RO) from NA-71, provincial government officials, ministers and members of provincial and the National Assembly of being complicit in the act, the PTI petition stated:
“The ECP should call upon inspection of record including ballot papers of by-elections besides getting the voters’ thumb impressions verified by NADRA.”
The ECP dismissed the rigging claims and while hearing another case regarding alleged rigging in NA-122, called in the PTI Chairman Imran Khan for recording a statement on November 12.


http://tribune.com.pk/story/620881/na-71-by-election-ecp-dismisses-ptis-claim-of-rigging-in-mianwali/

PTI THUSssssssssssss





http://express.com.pk/images/NP_LHE/20130823/Sub_Images/1101939367-2.gif

THUSSNAMI THUSSSSSSSSSSSSSSS

تحریک انصاف میں موروثی سیاست اور عمرانی نظریہ

 تحریک انصاف میں موروثی سیاست اور عمرانی نظریہ



ضمنی الیکشن میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے اپنے داماد کو ٹکٹ دلوایا ہے۔ سپیکر سرحد اسمبلی اسد قیصر نے اپنے بھائی کو اور عائلہ ملک نے اپنے سمدھی کو عمران خان سے ٹکٹ دلوایا ہے۔ موروثی سیاست کا الزام پیپلز پارٹی‘ ن لیگ اور ق لیگ پرکیوں ہے؟ اسد عمر بھی جنرل عمر کا بیٹا ہے اور اس نے بنگلہ دیش بنوایا تھا۔ ان کے لئے عمران ووٹ مانگ رہا ہے اور کہتا ہے کہ نظریے کو ووٹ دو۔ ان تینوں چاروں کے نظریات مختلف ہیں ہم نظریہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نظریہ پاکستان یعنی دو قومی نظریہ ہوتا ہے۔ تحریک انصاف والوں کو معلوم ہے کہ نظریہ پاکستان کیا ہے؟ انہیں عمرانی نظریے کا بھی پتہ نہیں؟ ضمنی نتائج حکومت والوں کی مرضی سے مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہی انتخابی رواج ہے۔ عمران خان کا نظریہ ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا کی ٹکٹوں کے لئے مسلم لیگ ن کی طرف سے عمران کے لئے راہ ہموار کی گئی اور پرویز خٹک نے کہا کہ شہباز شریف میرے لئے رول ماڈل ہیں۔ شاید اسی لئے عمران خان کہتے ہیں کہ میں خود پشاور میں بیٹھوں گا۔ خیبر پختونخوا کے لئے وزیراعظم عمران خان ہوںگے۔ کیا خیبر پختونخوا میں دھاندلی نہیں ہو گی؟
مجھے تو لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت تحریک انصاف یعنی عمران خان کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے۔ حکومت تو ہر کہیں ریت کی طرح ہوتی ہے۔ عمران کے نوجوان کہتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے دن بھی تھوڑے ہیں مگر عمران نے اپنے پیچھے مولانا فضل الرحمن کو لگا لیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نواز شریف اور چودھری نثار کی سیاست ہے۔ ضمنی انتخاب کے بعد کیا ہو گا۔ عمران کے لئے اس بات پر غور فرمائیں کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر ن لیگ کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ کیونکہ ضمنی الیکشن میں بھی شکست صاف نظر آرہی ہے بلکہ تحریک انصاف میں شکست و ریخت مسلسل ہو رہی ہے۔ ایک بات بہت واضح ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی دیرینہ خواہش ہے اور بہت دیر ہو گئی ہے۔ وزیراعظم بننے کی خواہش تو ڈاکٹر طاہر القادری کی بھی ہے۔ دونوں کو جنرل مشرف نے دھوکہ دیا۔ جسے وزیراعظم بننا تھا۔ اس نے انتظار کیا اور صبر کیا۔ ہمارے سیاستدانوں میں صبر اور انتظار کی عادت نہیں ہے۔ امارت کی طرح وزارت کے بارے میں بھی خیال ہے کہ صبح آنکھ کھلے تو ہم امیر کبیر ہو جائیں اور وزیراعظم بن جائیں۔ نواز شریف کی سیاست کامیاب رہی۔ انہوں نے شاہی اپوزیشن کی اور پھر فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ سنا اور وزیراعظم بن گئے۔
مولانا پر عمران خان نے الزام لگایا کہ انہوں نے امریکی سفیر سے کہا کہ مجھے وزیراعظم بنا دو اور پھر جو چاہے کرو اور کرا لو۔ عمران کے بارے میں مولانا کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر سے عمران خان نے کہا کہ مجھے وزیراعظم بنا¶۔ طالبان کے ساتھ صرف میں معاملات طے کروا سکتا ہوں۔ مجھے طالبان خان بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے لانگ مارچ بھی کیا۔ مگر کوئک مارچ نہ ہوا۔ نجانے یہ پلاننگ طالبان کے حق میں تھی امریکہ کے حق میں یا اپنے حق میں تھی ناحق اور حق میں فرق ہوتا ہے۔ جو ہمارے بے چہرے حکمرانوں کو معلوم نہیں ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن کے بھی طالبان سے بہت تعلقات ہیں مگر قرعہ فال نواز شریف کے حصے میں نکلا۔ اب فال نکالنے والے ان سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ سنا ہے اس کے بعد باری عمران خان کی ہے شاید خیبر پختونخوا میں باری مولانا صاحب کی نکل آئے۔ وہ مرکز میں حکومت کی بجائے اپوزیشن لیڈری کے لئے کوشش کریں گے۔ کہتے ہیں اپوزیشن میں بھی پوزیشن بہت ہوتی ہے۔ عمران اپوزیشن میں بھی حکمرانی کا قائل ہے بلکہ گھائل ہے۔
عمران کو جائن کرنے والے بھی کئی دفعہ وزیر شذیر رہ چکے ہیں۔ عمران بھی انہی کو وزیر شذیر بنائے گا۔ مزید ٹھیک ہے مگر تجربہ ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جو سیاستدان حکومتی جرائم اور کرپشن سے توبہ کرتا ہے اس کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی۔ وہ تحریک انصاف جائن کرکے عمران کے پہلو میں بیٹھ جاتا ہے۔ بڑی دیر سے کھانے پینے میں مصروف شخص سے پوچھا گیا کہ رج گئے ہو اس نے ہاتھ اور منہ صاف کئے بغیر کہا تھک گیا ہوں۔ کئی سیاستدان حکمران اور افسران ابھی تھکے نہیں ہیں۔ لگے ہوئے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ تحریک انصاف کا آئین کیا ہے۔ جواب ملا یہ تو پتہ نہیں۔ اتنا پتہ ہے کہ عمران کا آئینہ عائلہ ملک ہے۔ عمران کہتا ہے کہ نظریے کو ووٹ دو۔ میانوالی سے وحید ملک کو عائلہ ملک کا چہرہ مبارک دیکھ کر ووٹ دو یہ کوالی فکیشن کیا کم ہے کہ وحید ملک عائلہ ملک کا سمدھی ہے۔
پشاور میں غلام احمد بلور پھر مقابلے میں آگیا ہے۔ اب انہیں مولانا کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ یہ بلور کی حمایت نہیں ہے عمران کی مخالفت ہے بغض معاویہ یہی ہوتا ہے۔ عمران خان اپنی جیتی ہوئی سیٹ ہار گیا تو کیا ہو گا۔ وہ زیادہ خوش ہو گا کہ اب میرے وزیراعظم بننے کا چانس پکا ہے؟ پنجاب کے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کے بیٹے کے جنازے میں عمران کے بہنوئی اور چچازاد بھائی حفیظ اللہ خان نے اس کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ یہ کیا وقت آگیا ہے عمران رشتوں اور رابطوں میں اتنا فرعون کیوں ہے۔ حفیظ اللہ خاں بھی کم نہیں ہے۔ اس کا بھائی ہے۔ جب شوکت خانم میں پیٹ درد کے حوالے سے عمران داخل ہوا تو اس کے محسن بھائی حفیظ اللہ خان نے مجھے کہا کہ تم ایک کالم عمران خان کے لئے لکھو۔ ایک جملہ عمران خان کو چبھ گیا۔ عمران میرا دوست ہے نہ میرا لیڈر ہے مگر میرا بھائی تو ہے۔ اب محسوس ہوا ہے کہ وہ بھائی بھی نہیں ہے۔ پہلے میانوالی کے غیرت مندوں نے بھائی سمجھ کر عمران کو ووٹ دئیے تھے۔ کیا اب عائلہ ملک کو اپنی بہن سمجھ کے ووٹ دیں گے۔ تحریک انصاف کے ایک سچے اور بہادر کارکن جمشید امام کا شعر ہے
میں اپنی ماں کے قدموں کا فقط بوسہ لیتا ہوں
دوا کے واسطے میری جیبوں میں اکثر کچھ نہیں ہوتا

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/20-Aug-2013/233244

میانوالی کی لیڈر عائلہ ملک یا عائلہ لغاری

میانوالی کی لیڈر عائلہ ملک یا عائلہ لغاری
کالم نگار | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی 

عمران خان تین انتخابی حلقوں سے جیت گئے۔ مگر ایاز صادق نے انہیں بُری طرح شکست دی۔ ایاز صادق کو امید نہ تھی مگر مجھے امید تھی۔ یہ کامیابی شریف برادران کو پسند آئی اور ایاز صادق سپیکر قومی اسمبلی بن گئے۔ عمران خان سے ایاز صادق نے حلف لیا۔ وہ اتنے خوش ہوئے کہ چودھری نثار سے جپھی ڈال لی۔ سیاسی سنگدلی دیکھیں کہ یہ بات جاوید ہاشمی کے ایک سیاسی بیان سے بڑا جرم تھا مگر غیرت مند تحریکی جوانوں میں سے کسی نے عمران سے معافی کا مطالبہ نہ کیا جبکہ انہیں معافی مانگنے کا وسیع تجربہ ہے اسی نسبت سے غلطیاں کرنے کی بڑی عادت ہے۔ میں نے تب کہا تھا کہ کسی امیدوار کو صرف ایک حلقے سے الیکشن لڑنے کی اجازت ہونا چاہئے۔ یہ ہوتا تو عمران خان صرف میانوالی سے الیکشن لڑتا۔ مگر کس قدر بے وفائی اور مفاد پرستی ہے کہ عمران نے میانوالی کی نشست چھوڑ دی ہے۔ پشاور میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور یہ سیٹ بھی چھوڑ دی گئی ہے شاید تحریک انصاف کا آدمی پشاور سے تو جیت جائے مگر میانوالی سے جعلی ڈگری پر نااہل ہونے والی عائلہ ملک کے غیر معروف غیر سیاسی سمدھی وحید ملک کی جیت ناممکن ہے؟ اس بات پر عمران کو میانوالی کے غیرت مند لوگوں سے معافی مانگنا چاہئے۔ عائلہ ملک عمران خان کی بہت قریبی ساتھی ہے اور اُسے معلوم نہ ہو سکا کہ اس کے پاس ایف اے کی سند بھی جعلی ہے۔ عائلہ ملک کی جعل سازیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ شکر ہے کہ وہ الیکشن سے پہلے ہی نااہل ہو گئی ہے۔ اس کا جیتنا مشکل تھا مگر شاید میانوالی کے لوگ عمران کی محبت میں اندھے بہرے ہو کر عائلہ کو اپنا لیڈر بنا لیتے تو یہ داغ میانوالی کی سیاسی پیشانی سے کبھی دور نہ ہوتا۔ میں عورتوں کے لئے بہت کشادہ دل ہوں۔ ہر طرح اُن کا حامی ہوں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں عورتوں نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ سیاست میں اور صحافت میں ان کا بہت نام ہے۔ مگر میانوالی کا ایک کلچر ہے اور ہمیں اس کا احساس کرنا چاہئے۔ میانوالی سے محترمہ ذکیہ شاہنواز ن لیگ سے مخصوص نشستوں پر ممبر پنجاب اسمبلی ہیں۔ اپنے وقار اور اعتبار کی وجہ سے بہت احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہیں۔ وہ ن لیگ کے امیدوار شادی خیل کی بہت سپورٹ کر رہی ہیں۔ وہ آجکل صوبائی وزیر ہیں۔ وہ بہت قابل ہیں اور اہل ہیں جبکہ ٹیکسلا سے غلام سرور خان چودھری نثار کو ہرا کر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم این اے ہوئے مگر جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے۔ تحریک انصاف نے ان کی بنیادی رکنیت معطل کر دی۔ مگر عائلہ ملک کو عمران خان نے داﺅد خیل میں دلیر کہا۔ وہ جعلی ڈگری پر جنرل مشرف کی ہدایت کے مطابق ق لیگ کے ٹکٹ پر پانچ سال تک ایم این اے بنی رہیں۔ وہ نواب کالاباغ ملک امیر محمد خان کی پوتی ہے وہ بہادر اور غیرت مند انسان تھے۔ عائلہ اور سمیرا کو اُن کے ماموں صدر فاروق لغاری سیاست میں لے کے آئے تھے۔ میں نے لکھا تھا کہ اب وہ اپنے نام کے ساتھ لغاری لکھا کریں۔ عائلہ لغاری اور سمیرا لغاری۔ سمیرا ن لیگ میں ہیں۔ اسی زمانے میں عائلہ بلوچ سیاستدان اور وزیر رند صاحب کی بیوی بن گئیں۔ انہوں نے عائلہ ملک کو گھر سے ہی نکلنے نہ دیا۔ عمران خان نے میانوالی میں کسی بہتر امیدوار کی بجائے عائلہ ملک کے سمدھی وحید ملک کو ٹکٹ دیا ہے جو عائلہ کا چچا زاد ہے اور مظفر ملک کا بیٹا ہے چند ماہ پہلے عائلہ ملک کی بیٹی کی شادی وحید ملک کے بیٹے کے ساتھ ہوئی ہے۔ سنا ہے کہ مظفر ملک کے بھائی اسد ملک نے وحید ملک اور عائلہ ملک کی مخالفت کا اعلان کر دیا ہے۔ میانوالی سے اطلاعات آئی ہیں کہ وہاں ن لیگ کے امیدوار عبیداللہ خان شادی خیل کی پوزیشن بہت اچھی ہے۔ یہاں سے تحریک انصاف کی شکست بہت بڑی شکست ہو گی۔ میانوالی کے وفا حیا والے لوگوں سے عمران خاں نے بہت بڑا انتقام لیا ہے۔ بھٹو صاحب‘ بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف‘ شہباز شریف‘ جاوید ہاشمی کے علاوہ کسی نے اپنی آبائی گھریلو سیٹ نہیں چھوڑی تھی جب تحریک انصاف کو صرف ایک سیٹ ملی تھی۔ وہ میانوالی سے عمران خان کی سیٹ تھی۔
مجھے میانوالی سے کئی دوستوں نے کہا تو میں نے کہا تھا کہ عمران خان میانوالی کو نہ چھوڑیں۔ برادرم رفیع اللہ خان روکھڑی بہت جذباتی ہو گئے تھے۔ بعد میں عمران خان کے لئے اختلافی بات پر مجھ سے لڑ پڑے۔ اب ان کا کیا خیال ہے؟ قمرمثانی کے نوجوان ورکرز عمران کی گاڑی کے آگے کھڑے ہو گئے۔ ثناءاللہ خان نے کہا کہ یہ کیا تبدیلی آپ میانوالی میں لا رہے ہیں۔ آپ نے میانوالی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اب اپنی سیٹ پر ایک غیر نمائندہ اور غیر پسندیدہ آدمی کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ عمران نے کہا کہ آپ نظریے کو ووٹ دو۔ اس نے کہا آپ نے نظریے کو ٹکٹ دیا ہے؟ عائلہ ملک جیسے خواتین و حضرات کی خاطر عمران نے تن من دھن کی بازی لگا دی ہے۔
میانوالی کے لوگوں کا خیال تھا کہ نامور گلوکار عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ عطاءاللہ کو اللہ نے بہت عزت دی ہے مگر عمران بے شمار عزت کو سنبھال نہیں سکا جو اللہ نے اسے بخش دی ہے۔ شریف برادران کے لئے لوگ کہتے ہیں کہ وہ مغرور ہیں مگر اصل غرور تو عمران کی آنکھوں میں لکھا ہوا ہے۔
راولپنڈی کے لئے جاوید ہاشمی کی سیٹ پر بہت جنوئن اور جانثار ساتھی ڈاکٹر اسرار شاہ کی بجائے اپنے دوست اسد عمر کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا بھی بلند و بالا اور بہادر سیاستدان لگتا ہے۔ اسد عمر جنرل عمر کا بیٹا ہے جو مشرقی پاکستان توڑنے میں حصہ دار تھا۔ اسے بعد میں برطرف کر دیا گیا تھا۔ عمران نے ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر معافی مانگی ہے۔ اب دوسری شکست پر دوسری بار معافی مانگے گا۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/19-Aug-2013/233063

Fake degree: PTI candidate for Mianwali ‘home seat’ faces by-poll ban

Fake degree: PTI candidate for Mianwali ‘home seat’ faces by-poll ban




ISLAMABAD: Pakistan Tehrik-i-Insaf (PTI) chief Imran Khan's choice for NA-71 faces a certain by-election ban after the Election Commission and the Rawalpindi Education Board raised doubts over her high school degree.
Ayla Malik was scheduled to run in the by-elections on Imran’s home seat in Mianwali, NA-71, after Imran vacated the seat to keep his Rawalpindi seat.
Malik, who is the niece of former President Farooq Leghari, was scheduled to run for by-elections in Mianwali but her candidacy was challenged by political opponent Obaidullah Shadikhel of Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N).
On Saturday, the election tribunal of the Lahore High Court’s Rawalpindi heard the arguments of Shadikhel’s counsel. He argued that Malik should be barred from contesting elections.
Rawalpindi Education Board and Election Commission also filed their replies before the tribunal, claiming that Malik was awarded no degree by the Rawalpindi Board. A Board reply stated that the degree submitted by Malik before the Election Commission was found to be of another candidate, Imdad Hussain, who had failed his intermediate examination.
The Election Tribunal reserved its ruling for July 29.
Malik comes from a long line of politicians. Besides her relation to the former president, she is the granddaughter of Nawab Malik Amir Muhammad Khan, otherwise known as the Nawab of Kalabagh. Her sister, Sumaira Malik, is an MNA for the PML-N. Earlier, Ayla Malik served as an MNA on a reserved seat from 2002-2007.
The issue of fake degrees took centre stage in Pakistani politics in recent months, after the superior courts took up several petitions against the dubious credential of parliamentarians and election candidates.
In April this year, Election Commission penalised three senators, five Punjab Assembly MPAs, two Sindh MPAs and one Balochistan MPA for holding fake degrees. . Earlier this week the Supreme Court disqualified a Pakistan Muslim League-Quaid (PML-Q) lawmaker from Punjab Assembly, Samina Khawar Hayat, for a fake degree.
An independent MNA from Muzaffargarh, Jamshed Dasti had made headlines when he was disqualified for his fake degree – but managed to win his seat in the general elections this year after getting his ban overturned just in time from the Lahore High Court’s Multan bench.

Blogroll