Showing posts with label Local Bodies Election. Show all posts
Showing posts with label Local Bodies Election. Show all posts

PTI candidate withheld the NICs of severa voters of Gojranwala..

http://www.dailywaqt.com/11-17-2015/pic.asp?picname=03_12.gif

PTI lack of homework | Candidate for UC chairman disqualified

 
http://www.dailywaqt.com/09-18-2015/images/02_09.gif

PTI candidate withdrawn | PMLN win the UC107 chairmanship

http://www.dailywaqt.com/09-13-2015/images/58.gif

Cracks in PTI | Buahahhahah

http://www.dailywaqt.com/09-03-2015/images/53.gif

Nepotism , Hypocracy and Dynastic politics | Naya Pakistan has all in one


Nepotism | CM KPK brother elected ditrict nazim

http://www.dailywaqt.com/08-31-2015/images/52.gif

Non political POlice Force | CEC slaps Imran Niazi's claims



http://www.dailywaqt.com/06-10-2015/images/01_04.gif

Re Election ? | CEC shuts up Imran Niazi

Rigging Rigging on the way

http://www.dailywaqt.com/06-04-2015/images/515.gif    http://www.dailywaqt.com/06-04-2015/images/512.gif

Qoami khazanay ko sheer e madir samjh rakha hay BAKWA NIAZI nay

دوبارہ بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہیں: عمران خان


صوبہ خیبرپختونخواہ میں برسر اقتدار پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی شکایات کے تناظر میں وہ صوبے میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے تیار ہیں۔
گزشتہ ہفتہ تقریباً چھ سال کے بعد خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں جب کہ تشدد کے مختلف واقعات میں اطلاعات کے مطابق دو درجن کے لگ بھگ افراد بھی ہلاک ہوئے
الیکشن میں اب تک کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف عددی اعتبار سے اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی لیکن مختلف سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت اسلامی کی طرف سے بھی انتخابات مین دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے مشاورت کی ہے اور اگر دوبارہ انتخابات کروانے کا کہا جاتا ہے تو ان کی جماعت اس کے لیے تیار ہے۔
"اگر یہ چاہتے ہیں کہ متنازع حلقوں میں دوبارہ الیکشن ہو تو ہم تیار ہیں۔"
مقامی حکومتوں کی 41 ہزار سے زائد نشستوں کے لیے 84 ہزار سے زائد امیدوار ان انتخابات میں میدان میں تھے اور ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد ووٹروں کو مختلف نشستوں کے لیے سات، سات ووٹ ڈالنے تھے۔
الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے صوبائی حکومت کو یہ تجویز دی تھی کہ اتنے بڑے پیمانے پر انتخابات کو مرحلہ وار منعقد کر لیا جائے لیکن یہ تجویز قبول نہیں کی گئی۔
علاوہ ازیں کمیشن نے صوبائی حکومت کے اس بیان کو بھی مسترد کیا کہ انتخابات میں امن و امان قائم رکھنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی اور اس کے بقول انتخابات کروانا ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں کوئی بھی ادارہ خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔
تاہم اس بیان پر عمران خان نے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری سے روگردانی نہ کرے۔
"الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری قبول کرے، یہ آپ کا کام ہے الیکشن کروانا حکومت کا کام نہیں ہے۔"
ادھر بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے تناظر میں پیش آنے والے تشدد کے ایک تازہ واقعہ میں کم ازکم چار افراد ہلاک ہوگئے۔
منگل کو ایبٹ آباد میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی شکایت درج کروانے کے لیے دو فریق متعلقہ حکام کے دفتر جا رہے تھے کہ ان میں تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ واقعے میں ایک شخص شدید زخمی بھی ہوا۔
دریں اثناء الیکشن کمیشن نے دیر سے صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دیے جانے پر یہاں کے نتائج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کا حکم دیا ہے۔
گزشتہ ماہ حلقہ پی کے 95 لوئر دیر میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں جماعت اسلامی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
شائع شدہ اطلاعات کے مطابق یہاں 53 ہزار خواتین کے ووٹ رجسٹر تھے جنہوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

Only PTI claiming its fare election | So do we need a fresh LB elections ??

http://e.jang.com.pk/06-02-2015/lahore/images/119.gif

Rauf Tahir on the state terrorism of PTI governemnt

http://e.jang.com.pk/06-02-2015/lahore/images/08_04.gif

Salim SAAFI | On the rigging and terrorism of PTI

http://e.jang.com.pk/06-02-2015/lahore/images/08_06.gif

RIGGING RIGGING every where | ECP gives a shutup call to Imran NIAZI

http://e.jang.com.pk/06-02-2015/lahore/images/1121.gif

JI an allied party speaks on riggign in LBE

http://e.jang.com.pk/06-02-2015/lahore/images/1430.gif

ڈیرہ اسماعیل خان میں صوبائی وزیرعلی امین گنڈاپور بیلٹ باکسز لیجاتے ہوئے پکڑے گئے

ڈیرہ اسماعیل خان میں صوبائی وزیرعلی امین گنڈاپور بیلٹ باکسز لیجاتے ہوئے پکڑے گئے





ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او موقع نے 3 گھنٹے تک محصور رہنے والے علی امین گنڈا پور کی مشتعل مظاہرین سے جان بچائی۔ فوٹو: فائل

ڈیرہ اسماعیل خان: پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور کے خلاف پولنگ عملے اور پولیس اہلکاروں پر تشدد اور فائرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر علی امین گنڈاپور اپنے محافظوں کے ہمرا ڈیرہ اسماعیل خان میں یو سی ہمت کے پولنگ اسٹیشن میں گھس گئے اور بیلٹ باکسز ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن مقامی افراد نے ان کی گاڑی کا گھیراؤ کرلیا، مقامی افراد سے جان چھڑانے کیلئے علی امین گنڈاپور کے محافظوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوگئی، خاتون کے زخمی ہونے کے بعد مقامی افراد مزید مشتعل ہو گئے اور صوبائی وزیر کی گاڑی کے شیشے توڑ دیئے تاہم مقامی قبائلی افراد نے مداخلت کر کے مشتعل افراد کی جانب سے علی امین گنڈاپور کی گاڑی کو نذر آتش ہونے سے بچایا۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او موقع پر پہنچے اور 3 گھنٹے تک محصور رہنے والے علی امین گنڈا پور کو مشتعل مظاہرین کے ہجوم سے نکالا۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تحریری اور زبانی طور پر صوبائی وزیر کے غیر قانونی اقدام کی شکایت کردی گئی ہے جب کہ علی امین گنڈا پور کے خلاف تھانہ صدر میں 2 مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں۔ بیلٹ باکسز بھی ریٹرنگ افسران کو دوبارہ واپس کر دیئے گئے ہیں اور اگر بیلٹ باکسز کی سیل کھلی ہوئی تو اس صورت میں حلقے میں دوبارہ سے انتخابات ہوں گے، اگر بیلٹ باکسز کی سیل بند ہوئیں تو اس صورت میں صرف ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے گی۔

Rigging in LBE in KPK | Koi haya hoti hay koi sharam hoti hay






















































Because the police is non political therefore nothing HAPPENED. SHAMELESSNESS

پابندی کے باوجود پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ


پشاور : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے پشاور میں ڈبل سواری، ہوائی فائرنگ، لاﺅڈ اسپیکرز کے استعمال، عوامی اجتماعات اور سیاسی ریلیوں پر پابندی کے لیے عائد دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود جلسہ عام کا انعقاد کیا۔
چوبیس مئی کو پشاور کے ڈپٹی کمشنر ریاض محسود کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت 23 جون تک کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا تھا جس کا مقصد خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔
دفعہ 144 کے تحت ضلعی انتظامیہ کو ضروری حالات میں احکامات جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے پولیس کو بھی ہدایت جاری کی تھی کہ وہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے۔
تاہم پشاور کے طہماس اسٹیڈیم میں پی ٹی آئی کے طاقت کے اظہار پر مبنی جلسے پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا جو کہ کے پی انتظامیہ کی جانب سے چوبیس مئی کو جاری احکامات کی براہ راست خلاف ورزی تھا۔
عمران خان نے نہ صرف لاﺅڈ اسپیکر کا استعمال کیا بلکہ پابندی کے باوجود ایک بڑے سیاسی جلسے میں شرکت کی جس کے تحفظ کے لیے بڑی تعداد میں پولیس عہدیداران بھی وہاں موجود تھے۔
رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر ریاض محسود نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو شہر میں سیاسی جلسے کے انعقاد کی اجازت دی ہے تاہم انہوں نے اس بات پر تبصرہ نہیں کیا کہ کیا یہ جلسہ حال میں عائد کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہے کہ نہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ نے تو دفعہ 144 کا نفاذ کردیا ہے مگر یہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

Blogroll