Take a look at @ImtiazAliRao's Tweet: https://twitter.com/ImtiazAliRao/status/821969513478504448?s=09
Showing posts with label BBC. Show all posts
Showing posts with label BBC. Show all posts
پشاور سینٹرل جیل میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک قیدی اور جیل کے ایک نمبردار سے تفتیش شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب سیشن جج کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ اس واقعے کی انکوائری بھی کر رہے ہیں۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق قیدی نمبر 75 اور ایک نمبردار کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں ان سے تفتیش کے لیے انھیں ایک روز کے لیے تحویل میں لینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس کے مطابق ان نامزد افراد کو آج بھی علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
سینٹرل جیل میں قید ایک 14 سے 15 سال کے بچے نے چند روز پہلے پشاور کے سیشن جج شاہد خان سے شکایت کی تھی کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے اور اس میں جیل کے عملے کے کچھ اہلکار شامل ہیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ان عدالتوں کے پریزائیڈنگ افسر بھی ہوتے ہیں جہاں قیدی بچوں کو پیش کیا جاتا ہے۔
اس بچے کی شکایت کے مطابق جیل میں قید بچوں کو قیدیوں کو جنسی زیادتی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اہلکار قیدیوں سے رقم وصول کرتے ہیں۔ بچے نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ دیگر بچوں کے ساتھ بھی یہیں کچھ کیا جاتا ہے لیکن خوف کی وجہ سے کوئی آواز نھیں اٹھاتا۔
پولیس نے بتایا کہ اس بچے نے شکایت میں کہا تھا کہ جیل کے عہدیدار اور نمبردار اسے زبردست ایک قیدی جسے قیدی نمبر 75 کہا جاتا ہے اس کے بیرک میں لے گئے جہاں اسے (بچے) زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
سیشن جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ آصف جدون کی سربراہی میں انکوائری کا حکم دیا تھا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد سینٹرل جیل میں قیدی بچوں کا ریکارڈ اور تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جیل کے جن اہلکاروں کو اس میں نامزد کیا گیا ہے وہ چکی کے انچارج ہیں یعنی یہ اہلکار جیل کے اس شعبے کی انچارج ہیں جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جنھیں سخت سزائیں سنائی گئی ہوتی ہیں۔
سینٹرل جیل میں بچوں کا قید خانہ علیحدہ ہے۔ اس وقت پشاور سینٹرل جیل میں بچوں کی بیرک میں کوئی ایک سو پانچ بچے قید ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سال سےکم ہیں ان میں سے صرف دس ایسے بچے ہیں جن کا جرم ثابت ہے جبکہ باقی بچے حوالاتی ہیں۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151014_kpk_jail_juvenile_sex_abuse_rh?ocid=socialflow_twitter
سوات: سات مرتبہ ویکسین پینے والا بچہ پولیو سے متاثر
- 25 نومبر 2014
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیو کا ایک نیا مریض سامنے آیا ہے۔
محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق سوات میں گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پولیو کا یہ پہلا کیس ہے جو خوازہ خیلہ کے علاقے تاروگےمیں رپورٹ ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیو سے متاثر ہونے والے بچے کی عمر تقریباً دو برس ہے اور اس نے ماضی میں متعدد بار پولیو کے قطرے پیے تھے۔
ڈی ایچ او سوات ڈاکٹر سید علی خان نے بی بی سی اردو کے انور شاہ کو بتایا کہ پولیو سے متاثرہ بچے کو سات بار پولیو ویکسین دی گئی تاہم اس کے باوجود وہ اس بیماری کا شکار ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کو تحقیقات کے لیے کہا گیا ہے کہ ویکسین پینے کے باوجود یہ بچہ کیسے اس مرض کا شکار ہوا۔
خیال رہے کہ یہ مریض ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صوبے بھر میں پولیو کی ویکسین پلانے کی مہم ایک مرتبہ پھر جاری ہے۔
پاکستان میں رواں برس ریکارڈ تعداد میں پولیو کے نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
2014 میں اب تک ملک بھر میں ایسے مریضوں کی تعداد 262 ہو چکی ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ہے۔
پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے اسے دنیا سے پولیو کے خاتمے کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
پاکستان میں ایک عرصے سے پولیو کے انسداد کے لیے جاری مہم میں شامل کارکن شدت پسندوں کا ہدف بھی رہے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2012 سے اب تک پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملوں میں 60 سے زیادہ ہیلتھ ورکرز اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والے پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
بنوں میں طالبعلم کتابوں کی بجائے بم لے کر سکول آ گیا
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک طالبعلم اپنے بیگ میں دستی بم سکول لے کر آ گیا جس کا ڈیٹونیٹر پھٹنے سے بچہ خود زخمی ہو گیا۔ پولیس اس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔
بنوں میں تھانہ سٹی کے انسپکٹر محمد رخسار نے بی بی سی کو بتایا کہ نویں جماعت کا ایک طالبعلم اپنے بستے میں ایک دستی بم ساتھ لے کر سکول آ گیا جس کا ڈیٹونیٹر پھٹنے سے وہ خود زخمی ہو گیا ہے۔
پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ طالبعلم نے ابتدائی تحقیقات میں بتایا کہ دستی بم اسے کہیں سے ملا تھا جسے وہ بیچنے کے لیے سکول لایا تھا۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ سکول میں دستی بم کا خریدار کون تھا اور یہ کہ بچے کو دستی بم کہاں سے ملا تھا۔
پولیس کے مطابق طالبعلم بنوں کا رہائشی ہے اور پولیس نے ان کے مکان پر چھاپہ مارا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے گھر میں کہیں مزید اسلحہ یا دھماکہ خیز مواد تو نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ضلع چارسدہ میں شبقدر کے مقام پر ایک مکان میں دستی بم کا دھماکہ ہوا جس میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق مکان کے افراد اپنے گھر کا سامان دوسرے مکان میں منتقل کر رہے تھے کہ اس دوران ان کے سامان میں دھماکہ ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مدعیان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ دستی بم ان کے سامان میں کیسے آیا۔
خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں دستی بم یا دیگر دھماکہ خیبر مواد بچوں کو راستے میں ملے جس سے دھماکے بھی ہوئے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سنہ 2010 کے سیلاب کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے بعض علاقوں میں پانی سے بارودی سرنگیں ملی تھیں جو جنوبی وزیرستان سے آنے والے سیلابی ریلوں میں آئی تھیں۔
عمران خان اور طاہر القادری اشتہاری قرار دے دیے گئے
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے ایس ایس پی آپریشنز کو زدوکوب کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کو اشتہاری قرار دیا ہے۔
عدالت نے ان رہنماؤں کو اسلام آباد پولیس کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر جمعے کو اشتہاری قرار دیا۔
اس مقدمے میں سرکاری وکیل سید طیب ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس درخواست کی سماعت کے دوران اُنھوں نے دلائل دیے کہ فاضل عدالت کی طرف سے ان ملزمان کی جاری ہونے والے وارنٹ گرفتاری کے بعد پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی ہے اور نہ ان افراد نے خود کو پولیس کے سامنے پیش کیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ یہ افراد تو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے روزانہ تقریریں کرتے رہے ہیں تو پھر اُنھیں وہاں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اگر ان ملزمان کو وہاں پر گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی تو وہاں امن وامان خراب ہونے کا خدشہ تھا اس لیے عمران خان اور طاہر القادری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے گرفتار نہیں کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کے تحت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں کو اشتہاری قرار دے دیا۔
عدالت نے پولیس کو ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کے اس عدالتی حکم کی کاپیاں عمران خان اور طاہرالقادری کے گھروں کے علاوہ عوامی مقامات پر بھی چسپاں کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سرکاری ٹیلی ویژن اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملوں کے مقدمات میں عمران خان اور طاہرالقادری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
اس کے علاوہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں طاہر القادری کو اشتہاری قرار دیا ہوا ہے اور اُنھیں دسمبر کے پہلے ہفتے میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کی مقامی قیادت کے بقول اُن کی جماعت کے سربراہ طاہرالقادری اس ماہ کے آخر میں پاکستان واپس آئیں گے۔
’دھرنوں سے 1000 بلین روپے کا نقصان ہوا ہے‘
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ دھرنوں کے آغاز سے اب تک ملک کی معیشت کو 1000 بلین روپے کا نقصان ہوا ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ دھرنوں کے آغاز سے روپے کی قدر میں 4.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے باعث بیرونی قرضے میں 250 بلین روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ روپے کی قدر کے باعث 150 بلین روپے کا پاکستانی صارفین کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کی کمی کا بھی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی سٹاک ایکسچینج بھی گری جس کے باعث 350 بلین روپے کا نقصان ہوا ہے۔
http://bbc.in/1uiNoDJ
آخری وقت اشاعت: بدھ 3 ستمبر 2014
جناب عمران خان
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
اسلام آباد۔
میری بیٹی منزہ کی عمر 14 برس ہے۔ اپنے دس سالہ تعلیمی دور میں وہ صرف ایک بار مسلسل پانچ دن سکول نہیں جا سکی تھی۔ یہ وہ دن تھے جب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری اسلام آباد کے بلیو ایریا میں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔
خاندانی تقریبات ہوں یا سیر و تفریح کے مواقع، منزہ سکول پر کسی چیز کو فوقیت نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے، جناب خان صاحب کہ جب کل اسے پیغام ملا کہ اس کا سکول مزید ایک ہفتہ نہیں کھل سکے گا، تو وہ بجھ سی گئی۔
خان صاحب میری بیٹی کا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو سکول نہ جا سکنا ہے۔ ایک اور وجہ ہے جس کا تعلق بھی براہ راست آپ ہی سے ہے، اس لیے وہ بھی میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔
گذشتہ برس مئی میں جب انتخابات قریب آئے تو میں نے آپ کی جماعت کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر ہمارے گھر میں خاصی گرما گرم سیاسی بحث چھڑ گئی۔ منزہ میرے اس فیصلے کے سخت خلاف تھی۔ مجھے یاد ہے کہ 11 مئی کی صبح جب میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلا تو منزہ نے مجھ سے کہا ’بابا ایک بار پھر سوچ لیں۔‘
میں نے سوچا کہاں میرا 20 سالہ صحافت کا تجربہ اور کہاں یہ کل کی بچی اور اس کی سیاسی سمجھ بوجھ۔ میں پولنگ بوتھ میں گیا اور آپ کے امیدوار کے نام پر مہر لگائی۔
اگلے چند ماہ میں منزہ کو آپ کے نظریات اور نئے پاکستان کے فائدے گنواتا رہا۔ مجھے کبھی شک نہیں ہوا کہ وہ ان باتوں سے مرعوب ہو رہی ہے لیکن میں اسے اچھے مستقبل کی خوشخبری سناتا رہا۔
گذشتہ چند روز سے منزہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ میں جب رات کو گھر جاتا ہوں تو اس کے سوالوں کے جواب نہیں دے پاتا۔ جو مناظر اس نے گذشتہ چند دنوں میں ٹیلی وژن پر دیکھے ہیں، اس کے بعد میں اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا۔
میں یقین نہیں کر پا رہا کہ 13 برس کی منزہ نے آپ کے نظریات کے بارے میں جو خدشات ایک برس پہلے ظاہر کیے تھے، وہ سچ ثابت ہو رہے ہیں۔
عمران خان صاحب، میں اپنی بیٹی کے سامنے شرمندہ ہو گیا ہوں۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ مجھے مزید شرمندگی سے بچا لیں۔ میری منزہ کو سکول جانے دیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے سامنے آپ کی سیاسی جدوجہد اور نظریات کا دفاع کرنے کی ایک بار پھر کوشش کروں گا۔ لیکن اس کے بند سکول اور سڑکوں پر لڑائی جھگڑے کے درمیان ایسا کرنا ممکن ہے۔
پلیز میری اور اپنی عزت کا پاس رکھیں۔ منزہ کو سکول جانے دیں۔
آپ کے نام یہ خط منزہ بھی پڑھے گی، اس لیے میں یہ بات یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں تحریر کردہ ایک ایک لفظ سچ ہے۔ امید ہے آپ ان گزارشات پر ہمدردانہ غور کریں گے۔
آپ کا ووٹر
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آخری وقت اشاعت: جمعـء 5 ستمبر 2014
پاکستان عوامی تحریک کا ’انقلاب مارچ‘ طویل ہونے کی وجہ سے مبینہ طور پر کرائے پر لائے جانے والے افراد اب اپنے گھروں کو جانے کے منتظر ہیں لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں گھروں کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ ایسے ہی سینکڑوں افراد میں بہاولپور کا رہائشی نوید بھی شامل ہے۔
اس لڑکے کا نام تو کچھ اور ہے تاہم اُس کی سکیورٹی کے لیے اسے نوید کے ایک فرضی نام سے لکھا جا رہا ہے۔
نوید کا کہنا تھا کہ وہ بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامے والی کا رہائشی ہے اور دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔
اُس لڑکے کا کہنا تھا کہ عوامی تحریک کے مقامی عہدیدار تنویر عباسی نے اُن کے گھر والوں کو بتایا کہ اُن کا بیٹا انقلاب مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے اور وہ تین روز کے بعد واپس آجائے گا۔
نوید کا کہنا تھا کہ عوامی تحریک کے مقامی عہدیداروں نے اُن کے گھر والوں کو چھ ہزار روپے بھی دیے جو اُنھوں نے بخوشی قبول کر لیے۔ اُس نے کہا کہ اس کے علاقے اور قریبی گاؤں سے 300 کے قریب زیر تعلیم نو عمر لڑکوں کو انہی شرائط پر اسلام آباد لایا گیا ہے۔
اس لڑکے کا کہنا تھا کہ 20، 20 لڑکوں پر مشتمل بٹالین بنائی گئی ہیں اور ہر بٹالین کا انچارج روزانہ انقلاب مارچ کی انتظامیہ کو لڑکوں کی حاضری کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔
نوید کا کہنا تھا کہ جو لڑکے پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے ہیں اُنھیں بھی اپنے گھروں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اُنھیں قریبی علاقوں میں ہی رکھا ہوا ہے۔
اس لڑکے کے بقول اُنھیں 21 روز اسلام آباد میں ہوگئے ہیں اور جب وہ اپنے عہدیداروں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں تو اُنھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد کے بس سٹینڈ پر اُن کے بندے کھڑے ہیں جو اُنھیں گھر جانے کی بجائے ’اگلے جہاں‘ پہنچا دیں گے اور اُن کے گھر والوں کو بتا دیں گے کہ وہ پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے انقلاب مارچ شروع کرنے سے پہلے کہا تھا کہ جو اس مارچ سے واپس آئے تو اُسے مار دیا جائے تاہم اگلے روز اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے یہ بیان مذاق میں دیا تھا۔
گوجرانوالہ کے نواحی علاقوں جہاں پر اکثر خواتین گھروں میں کام کرکے گُزارا کرتی ہیں وہاں سے بھی اطلاعات کے مطابق 100 کے قریب خواتین کو اس ’انقلاب مارچ‘ میں لایا گیا ہے اور اُن کے گھر والوں کو دس ہزار روپے مہینے کے حساب سے دیے گئے ہیں۔
گوجرانوالہ کے ایک رہائشی محمد اسلم کے مطابق لوہیا والہ بائی پاس اور دیگر نواحی علاقوں میں گذشتہ ماہ لاؤڈ سپیکر پر اعلانات ہوئے جس میں خواتین کو انقلاب مارچ میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی اور کہا گیا کہ جن خواتین کے پاس شیر خوار یا دس سال سے کم عمر بچے ہیں اُنھیں بھی اپنے ساتھ لائیں تو اُنھیں تین سے پانچ ہزار روپے اضافی دیے جائیں گے۔
پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عمر ریاض عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ اس وقت انقلابی دھرنے میں جتنے بھی لوگ بیٹھے ہیں وہ اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں اور اُنھیں نہ تو مجبور کیا گیا اور نہ ہی اُنھیں کوئی پیسے دیے گئے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے حکم پر آٹھ سو کے قریب ایسے مظاہرین اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہیں جن کے امتحانات ہیں یا پھر اُنھیں نوکری اور کاروبار کے مسائل ہیں۔
انقلاب مارچ میں شریک شرکا سے متعلق وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت شرکا کی تعداد چار سے لے کر پانچ ہزار تک ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان شرکا میں ایسے افراد کی تعداد قابل ذکر ہے جو منہاج القران کے ملازم ہیں۔
عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
آخری وقت اشاعت: بدھ 3 ستمبر 2014
پاکستان تحریک انصاف کے آزادی مارچ اور دھرنے میں شرکت کی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت کے وزیرِاعلی اور وزرا کے دفاتر خالی پڑے ہیں جس سے بظاہر حکومت کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
وزرا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاتر سے رابطے میں ہیں اور دھرنے وہ لوگوں کی بہتری کے لیے دے رہے ہیں۔
صوبائی سیکریٹریٹ میں وزرا کے دفاتر میں تین ہفتوں سے ہو کا عالم ہے۔ لوگ ان وزرا کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ان سے رابطے نہیں ہو رہے۔
ان دفاتر میں موجود سرکاری افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزرا کے دفاتر میں سینکٹروں فائلیں التوا میں پڑی ہیں اور دور دور سے آنے والے افراد اپنے نجی کاموں کے لیے دفاتر کے چکر لگاتے ہیں لیکن ان کے کام نہیں ہو رہے ہیں۔
ادھر صوبائی اسمبلی میں موجود حزب اختلاف کے اراکین نے بھی وزرا کی دفاتر سے عدم دستیابی پر سخت تنقید کی ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بھی اپنی تقریر میں ان مسائل کا ذکر کیا۔
پشاور میں اسی دوران دو مرتبہ شدید طوفان اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر بھی حزب اختلاف کے اراکین نے وزیرِ اعلی اور صوبائی وزرا پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پشاور میں لوگ مر رہے ہیں اور وزیراعلیٰ آزادی مارچ میں شریک ہیں۔
صوبائی وزیرِ تعلیم محمد عاطف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیرِاعلیٰ اور تمام وزرا اسلام آباد میں بھی بیٹھ کر اپنے دفاتر کے کام کر رہے ہیں اور کوئی کام التوا میں نہیں ہے۔
ان سے جب پوچھا کہ دفتری کام تو آپ ادھر بیٹھ کر کر رہے ہیں لیکن ان اراکین اور وزرا کے اپنے حلقوں کے افراد اور دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کے کام تو نہیں ہو رہے تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ دھرنے اپنے لیے نہں بلکہ لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے دے رہے ہیں۔
عاطف خان نے کہا کہ’یہاں سارا نظام ہی غلط ہے، حکمران مینڈیٹ چوری کر کے آئے ہیں جس وجہ سے یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ صوبائی وزرا کی عدم موجودگی سے لوگوں کو جو مشکلات پیش آئی ہیں وہ اس پر ان سے معذرت کرتے ہیں لیکن ہر ضلع اور صوبے کی سطح پر افسران موجود ہیں جبکہ ان کے حلقوں میں مقامی رہنما ہیں جو لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ان لوگوں کی شکایات اور حزب اختلاف کی تنقید کے بعد وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے وزرا سے کہا تھا کہ وہ دن کے وقت پشاور میں اپنے دفاتر میں حاضری ضرور دیں اور پھر شام سے پہلے اسلام آباد دھرنے میں پہنچیں۔
پشاور: فائرنگ سے دو اہلکار ہلاک
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کے مطابق جمعرات کی صبح نامعلوم افراد نے فاٹا سیکریٹیریٹ کے اکاؤنٹ افسر اور ان کے ڈرائیور کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پشاور میں یکہ توت کے علاقے میں اکاؤنٹ افسر احسان اللہ اپنے ڈرائیور خائستہ رحمان کے ساتھ جیپ میں دفتر آ رہے تھے کہ دورہ روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقعے پر ہلاک ہو گئے۔
حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
فاٹا سیکریٹریٹ کے ترجمان فضل اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا آیا ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی تھی یا یہ پشاور میں جاری ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے واقعات کی کڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لواحقین کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد معلوم ہو سکے گا کہ ان کے قتل کی وجوہات کیا تھیں۔
احسان اللہ فاٹا سیکریٹریٹ کے محمکمہ زراعت میں اکاؤنٹ افسر تھے۔
پشاور میں ان دنوں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دو روز پہلے پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد میں نامعلوم افراد نے پولیس کے رائیڈر سکواڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی جس سے دونوں شدید زخمی ہو گئے تھے۔گذشتہ روز ان میں ایک کانسٹیبل ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔
اسی طرح پشاور اور صوبے کے دیگر علاقوں میں اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
خیبر پختونخوا میں تشدد کے متعدد واقعات
گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا میں تشدد کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں ایک غیر ملکی کے اغوا کا واقعہ شامل ہے، جبکہ پشاور اور صوابی میں پولیس پر حملے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ پشاور کے ایک معروف سکول کے باہر دھماکہ ہوا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ژوب روڈ سے ایک چینی سیاح کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ گذشتہ شب اطلاعات موصول ہوئیں کہ نامعلوم افراد تھانہ درابن کی حدود سے ایک غیر ملکی سائیکل سوار کو اغوا کر کے لے گئے ہیں۔ مغوی سیاح لاہور سے ڈیرہ اسماعیل خان کے راستے سائیکل پر ژوب اور کوئٹہ جا رہے تھے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ اغوا کار سیاح کی سائیکل اور بستہ موقعے پر ہی چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی واقعے کا نوٹس لیا ہے۔
یاد رہے کہ اسی علاقے سے چند روز پہلے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ٹول پلازہ سے نجی کمپنی کے دو آپریٹرز اور ایک سکیورٹی گارڈ کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان میں سے دو افراد کو بازیاب کرا لیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی گارڈ تاحال اغوا کاروں کی تحویل میں ہے۔
اسی علاقے سے دو سکھوں کو بھی اغوا کیا گیا تھا جنھیں ایک ماہ بعد بازیاب کرا لیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ پولیس کے مطابق منگل کی صبح ضلع صوابی میں ایک نامعلوم مسلح شخص نے پولیس لائنز میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی جس سے ایک پولیس اہلکار ندیم معمولی زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد موقعے پر موجود اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی اور حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔
آج ایک اور واقعے میں پشاور کے دلہ زاک روڈ پر ایک معروف نجی سکول کی دیوار کے ساتھ دھماکہ ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ معمولی نوعیت کا دھماکہ تھا جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
پشاور میں اس طرح کے چھوٹے دھماکے روز کا معمول بن چکے ہیں اور پولیس کے مطابق یہ اکثر بھتہ وصول کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ دو روز پہلے خان مست کالونی میں ایک حملہ آور نے ایک تاجر کے گھر کے باہر اس طرح کا دھماکہ کیا تو موقعے پر موجود سکیورٹی گارڈز نے جوابی کارروائی کی جس میں حملہ آور زخمی حالت میں فرار ہو گیا تھا اور موٹر سائیکل وہیں چھوڑ دی تھی۔
گذشتہ روز نامعلوم افراد نے پشاور کے رام داس کے علاقے میں فائرنگ کر کے ٹریفک پولیس کے ایک انسپکٹر کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق انسپکٹر اس وقت ڈیوٹی پر تھا۔
جو ہار گئے تو کیا کرو گے ؟
جو فیس بکئے دانشور آئی آر اے کے سیاسی بازو شن فین کی غلط مثال دیتے ہوئے خان صاحب عمران خان کی تحریکِ انصاف کو تحریکِ طالبان پاکستان کا سیاسی بازو سمجھتے ہیں ان کے پاس اگر گریبان ہیں تو انہیں اب ان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔کیونکہ خان صاحب نے دو ٹوک انداز میں یہ بات واضح کردی ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں اگر مذاکرات کی طرح آپریشن بھی ناکام ہوگیا تو کیا کرو گے۔گویا،
کچھ اپنے دل پے بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے
ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مزاجِ جنوں پے لیکن
تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے
خان صاحب عمران خان کا یہ سوال کہ اگر آپریشن بھی ناکام ہوگیا تو کیا کریں گے اس پس منظر میں ہے کہ بقول ان کے وزیرِ اعظم شریف کی موجودگی میں جنرل کیانی کی بریفنگ کے دوران یہ بھی سنا گیا کہ آپریشن کی کامیابی کے امکانات چالیس فیصد ہیں۔
اگرچہ یہ بریفنگ کانفیڈینشل بتائی گئی تھی پھر بھی خان صاحب نے اس بارے میں پوری دنیا کو اعتماد میں لینا مناسب سمجھا۔حالانکہ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ بری فوج کے سربراہ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صورتحال یہ اور یوں ہے۔
اب تصور کریں کہ سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہوں اور لیفٹننٹ جنرل خان صاحب وار روم میں اپنے کمانڈروں کی بریفنگ کی صدارت کر رہے ہوں۔اور اچانک وہ اس سردار جی میں تبدیل ہوجائیں جس نے ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ ڈٹ کے مقابلہ کرنا تاکہ ہار بھی جاؤ تو دنیا کہے کہ مقابلہ کرکے ہارے ہیں اور ہارنے کے بعد منہ نہیں بسورنا بلکہ فاتحانہ مسکراہٹ سجائے دشمن سے مضبوط مصافحہ کرکے سر اٹھاتے ہوئےگراؤنڈ سے پویلین میں جانا ہے۔۔ایک کھلاڑی نے ہاتھ بلند کیا ’ سردار جی سوچو ! جے جت گئے تے فیر ؟؟؟؟۔۔۔‘
لیکن ہنسی مخول سے قطع نظر خان صاحب کی بات میں واقعی وزن ہے کہ اگر آپریشن بھی ناکام ہوگیا تو کیا کرو گے ؟
یہ بات خیبر پختون خوا کے اس پولیس والے کو بھی سوچنی چاہئے جو کسی لق و دق چیک پوسٹ پر عین اس وقت اکڑا ہوا پہرہ دے رہا ہے اور دور کسی گھر میں اس کے تین چھوٹے بچے اپنے بابا کے انتظار میں وقت کاٹتے ہوئے کھیل رہے ہیں۔اور وہ فوجی بھی جس کی شادی بس تین مہینے پہلے ہوئی ہے مگر وہ پھر بھی اس وقت دیر کی کسی پہاڑی پر دوربین لگائے نقل و حرکت نوٹ کررہا ہے۔اور ان گیارہ ایف سی والوں کو بھی خان صاحب کے خدشے پر دھیان دینا چاہئے جو عین اس وقت کہیں ٹرک میں سوار ہورہے ہیں اور جانتے ہیں کہ ساٹھ فی صد امکان یہی ہے کہ اکیس منٹ بعد یہ ٹرک کوئی موڑ کاٹتے ہوئے اڑ جائے گا۔
بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ مصطفیٰ کمال کو کوئی عمران خان کیوں نہیں ملا جو خبردار کرتا کہ اتا ترک کہلانے کے چکر میں گیلی پولی پر حملہ مت کرنا برطانوی و فرانسیسی تمہارے چھیتھڑے اڑا دیں گے۔
اور کتنا اچھا ہوتا کہ رودبارِِ انگلستان کے راستے نارمنڈی میں اتحادی فوجیں کشتیوں کے ذریعے جرمن توپوں کے سامنے اتارنے سے پہلے کوئی خان صاحب جنرل آئزن ہاور کے کان میں کہہ دیتے’ جا تو رہے ہو لیکن جرمنوں نے پوری فوج کا بار بی کئو بنا دیا تو کیا کرو گے۔‘ اور پھر آئزن ہاور خان صاحب کا ماتھا چوم لیتا اور دور کہیں برلن کے کسی فولادی بنکر سے کوئی ہٹلر خان صاحب کی سمت ایک ہوائی بوسہ اچھال دیتا مواہ مواہ مواہ۔۔۔۔۔
طالبان سیانے بھی ہیں اور خان صاحب کی طبیعت سے بھی واقف۔تب ہی تو انہوں نے خان صاحب کو محض اعزازی سفیر کا درجہ دینے پر اکتفا کیا۔
کیا انیس سو بانوے کے میلبرن کے ڈریسنگ روم میں کسی میاں داد یا وسیم اکرم نے خان صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئےکہا تھا کہ’ کپتان زیادہ امید مت رکھنا۔انگلینڈ پچھلے میچ میں ہمیں چوہتر رنز سے صاف کرچکا ہے۔سٹے کا ریٹ بھی انگلینڈ کے حق میں ساٹھ چالیس چل رہا ہے۔ورلڈ کپ اٹھانے کا خواب مت دیکھو۔بس یہ سوچو کہ ہار گئے تو کیا کرو گے۔۔۔۔۔۔۔‘
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
آخری وقت اشاعت: منگل 28 جنوری 2014 , 05:00 GMT 10:00 PST
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی
سول سوسائٹی کی تنظیموں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی مداخلت پر
پشاور یونیورسٹی میں ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی روک دی گئی
ہے۔
باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ کے سربراہ ڈاکٹر خادم حسین
نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ منگل کو ایریا سٹڈی سنٹر
پشاور یونیورسٹی میں ملالہ یوسف زئی کی کتاب ’آئی ایم ملالہ’ کی تقریب
رونمائی منعقد ہونا تھی تاہم صوبائی حکومت کی براہ راست مداخلت پر یہ تقریب
روک دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ تقریب باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ،
ایریا سٹڈی سنٹر اور سول سوسائٹی کی تنظیم ایس پی او کی طرف سے مشترکہ طور
پر منعقد کی جانی تھی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے ان کو بتایا گیا کہ وہ سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے تقریب کا انعقاد روک دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر خادم حسین نے مزید الزام لگایا کہ صوبائی حکومت کے دو وزراء کی طرف سے یونیورسٹی انتظامیہ پر براہ راست دباؤ ڈالا گیا کہ وہ تقریب کی اجازت نہ دے اور اس سلسلے میں بعض اہم سرکاری اہلکاروں کی جانب سے ایریا سٹڈی سنٹر کے سنئیر پروفیسرز کو ٹیلی فون بھی کیےگئے۔
انہوں نے کہا کہ تقریب میں شرکت کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سسنئیر پروفیسروں اور سول سوسائٹی کی تنظمیوں کو دعوت دی گئی تھی۔
ادھر پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز خان نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ بعض سکیورٹی خدشات کے باعث کتاب کی تقریب رنمائی روک دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریب کے منتظمین کی طرف سے پولیس کو پہلے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بھی تقریب کے انعقاد پر بعض اعتراض کیے گئے تھے جس کے باعث تقریب کی اجازت نہیں دی گئی۔
"بعض سکیورٹی خدشات کے باعث کتاب کی تقریب رنمائی روک دی گئی ہے۔"
پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز خان
خیال رہے کہ ملالہ یوسف زئی کی کتاب ’آئی ایم ملالہ’ گذشتہ سال اکتوبر میں امریکہ اور برطانیہ کے ممالک میں شائع کی گئی تھی۔ یہ کتاب ملالہ یوسف زئی اور برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب نے مشترکہ طور پر لکھی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے نجی سکولوں کی ایک تنظیم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی طرف سے ملالہ یوسف زئی کی کتاب آئی ایم ملالہ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھی کتاب فروخت کرنے والے دوکانداروں کو دھمکیاں دی گئی تھیں۔
