Showing posts with label Ajmal Niazi. Show all posts
Showing posts with label Ajmal Niazi. Show all posts

جاوید ہاشمی کی تازہ بغاوت

ایک بار پھر جاوید ہاشمی نے ثابت کیا ہے کہ واقعی وہ باغی ہے۔ اس نے پھر کہا کہ میں جمہوریت کے لئے نواز شریف کے ساتھ کندھا ملا کے کھڑا ہوں گا۔ آج کل اس کا کندھا بھی اندھا ہو گیا ہے۔ وہ بہت کمزور ہو گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن چھوڑ کر تحریک انصاف میں ان کا تجربہ مختلف نہیں رہا۔ عمران، نواز شریف سے بڑا ڈکٹیٹر ہے۔ نواز شریف پھر بھی ایک اچھے دل والا آدمی ہے۔ مروت اور محبت اس میں ہے۔ وہ اپنے ساتھ مہربانی کو یاد رکھنے والا ہے۔ ’’صدر‘‘ زرداری کی طرح یہ فیصلہ اس نے خود کرنا ہوتا ہے کہ کس مہربانی کو یاد رکھنا ہے اور کس کی مہربانی کو یاد رکھنا ہے۔ بہرحال جاوید ہاشمی کے لئے کچھ تحفظات کے باوجود وہ ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
کلثوم نواز کی تحریک جو بعد میں تحریک جلا وطنی بن گئی تھی اس میں تہمینہ دولتانہ خواجہ سعد رفیق اور جاوید ہاشمی دل و جان سے ان کے ساتھ تھے۔ ہم بھی کلثوم بی بی کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو غیرمتوقع طور پر ایک سیاستدان بلکہ لیڈر ثابت کر دیا تھا۔ بڑے میاں صاحب میاں شریف نے بھی اسے شاباش دی تھی۔ فون پر ان سے بات ہوئی تھی۔ کالج میں وہ ہمارے ساتھ تھی۔ شاید کچھ جونیئر ہو مگر اب وہ مجھے کچھ بھول گئی ہیں۔ ورنہ وہ جاوید ہاشمی کے پاس چلی گئی ہوتیں تو وہ تحریک انصاف کی سیاسی بے انصافیوں سے بچ جاتا۔ اس نے ن لیگ چھوڑ کر سیاسی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی۔ یہ غلطی میرے بھائی بچے، بہادر اور نظریاتی آدمی عمران کے کزن اور بہنوئی حفیظ اللہ نیازی نے کی۔ یہ زیادتی اس نے اپنے بھائی بہت زبردست انسان انعام اللہ خان نیازی کے ساتھ بھی کی۔ اسے کہیں کا نہ رکھا۔ شکر ہے کہ اب اس کے ایم پی اے بھائی نجیب اللہ خان نیازی نے ن لیگ جائن کر لی ہے۔ نجیب مجھے پسند ہے۔ ان کو اپنے بھائی حفیظ اللہ نیازی کی محبت لے بیٹھی۔ بڑے بھائی دبنگ آدمی سعیداللہ خان نیازی نے اس فیصلہ کی مخالفت کی تھی۔ انعام ن لیگ میں ہوتا تو ممبر اسمبلی ہوتا اور وزیر بھی ہوتا۔ حفیظ عمران کی محبت میں اندھا تھا۔ اس کے ساتھ عمران نے کیا کیا۔ وہ عمران کا محسن ہے۔
عمران کو نواز شریف سے سیکھنا چاہئے کہ گھر کی اور گھر والوں کی طاقت کیسی ہوتی ہے۔ پنجاب کا وزیراعلیٰ پہلے بھی شہباز شریف تھا اور اب بھی ہے۔ یہ نہیں تو یہ بات چودھری شجاعت اینڈکوکوطاقت رشتوں کی سانجھ میں ہے۔ مگر عمران پرلے درجے کا بے وقوف آدمی ہے۔ اس کے امیر کبیر مشیر اس پر حاوی ہیں۔
قومی اسمبلی میں جاوید ہاشمی نے کہہ دیا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم ہوا ہے۔ وہ میرا لیڈر تھا اور لیڈر ہے۔ تو اس میں غلط کیا ہے اور غیرسیاسی بات کیا ہے۔ یہ اعلیٰ ظرفی ہے، کشادگی ہے۔ جاوید کی سادہ دلی ہے۔ عمران کو تنگ نظری، تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تحریک انصاف کے بے لگام نوجوانوں نے سوشل میڈیا اور فیس بک پر جو کچھ جاوید ہاشمی کے ساتھ کیا گیا وہ شرمناک ہے۔ خدا کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ جاوید ہاشمی عمران سے بڑا لیڈر ہے مگر عمران نے اسے شاہ محمود قریشی سے بھی کمتر سیاستدان بنا دیا ہے جبکہ ’’صدر‘‘ زرداری نے دوسری بار اسے وزیر خارجہ بنا دیا ہوتا تو حنا ربانی کھر اس سے بہتر وزیر خارجہ نہ بن پاتی۔ ایسا تو ن لیگ میں بھی نہ تھا۔ وہاں بھی چودھری نثار کو جاوید پر ترجیح دی گئی مگر یہ نہ تھا جو یہاں ہے۔ آج بھی چودھری نثار نواز شریف سے کم چیز نہیں ہے۔
جب عمران کے غصے کے لپیٹ میں آ کے جاوید ہاشمی نے اپنا بیان واپس لیا تو وہ میرے دل سے اتر گیا۔ میں اس کے ساتھ محبت کرتا تھا۔ اس کی بیٹیوں کو اپنی بیٹی جانتا تھا۔ ایک بیٹی کی شادی میں جاوید ہاشمی کی جیل سے شرکت کو یقینی بنانے میں میرا کردار بھی ہے۔ آج بھی جاوید کو یاد ہو گا کہ ملتان ائر پورٹ سے بھی فون کیا تھا اور کہا تھا کہ جس طرح تم نے کالم میں لکھا تھا اسی طرح پولیس والے مجھے جیل سے شادی ہال میں لے گئے ہیں۔
جاوید ہاشمی ایک باغی ہیں۔ وہ ڈٹ جاتے اور عمران سے کہتے کہ آپ میرے لیڈر ہیں مگر میں نے علامتی بات کی ہے۔ بات ہو گئی ہے۔ اب بات واپس لینا رسوائی ہے۔ مگر جاوید نے بیان واپس لے لیا اور میرے ساتھ اس کی دوستی ختم  ہو گئی۔ اور جاوید ہاشمی کی سیاسی شخصیت کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ شاہ محمود قریشی بہت خوش ہیں۔ اب جاوید کو پتہ چلا ہو گا کہ چودھری نثار قریشی سے بہت بڑا آدمی ہے۔ مگر میں آج اعلان کرتا ہوں کہ وہ پھر سے میرے دوست  ہیں اور میں انہیں سلام کرتا ہوں۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ جاوید مجھے دوست سمجھتا ہے کہ نہیں۔
جاوید نے کراچی میں تحریک انصاف میں شرکت کے وقت اپنی تقریر میں کہا تھا کہ عمران خان سن لو کے میں باغی ہوں۔ میں نواز شریف سے بغاوت کر سکتا ہوں تو آپ کے ساتھ بھی کر سکتا ہوں۔ ہم اس لمحے کے منتظر ہیں کہ وہ اپنی بات کو سچ کر دکھائے۔ سچ ہے کہ کوئی جماعت اسلامی سے نکل جائے مگر جماعت اس میں سے نہیں نکلتی۔ یہ حال نواز شریف کے ساتھ بھی ہے۔ ممکن ہے کہ ن لیگ چھوڑنے والے کے دل سے ن لیگ بھی نکل جائے۔ مگر جماعت اس میں سے بھی نہیں نکلتی۔ یہ حال نواز شریف کے ساتھ بھی ہے۔ ممکن ہے کہ ن لیگ چھوڑنے والے کے دل سے ن لیگ بھی نکل جائے مگر نواز شریف نہیں نکلتا۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ جاوید ہاشمی کو دوبارہ ن لیگ جائن کر لینا چاہئے۔ اس کے لئے خواجہ سعد رفیق نے بہت کوشش کی تھی۔ وہ پھر کوشش کریں۔ کلثوم بھی ساتھ ملائیں۔ اس کوشش میں کلثوم نواز کو بھی شریک ہونا چاہئے۔ اس کار میں تہمینہ دولتانہ کے ساتھ جاوید ہاشمی بھی تھے جو کئی گھنٹے تک پولیس کے لئے عذاب بنی رہی تھی۔ میں نے تہمینہ بی بی سے کہا تھا کہ وہ کلثوم کو سیاست سے الگ نہ ہونے دے مگر…؟ اب کلثوم نواز نے مریم نواز کو سیاست میں لا کے ایک اچھا اقدام کیا ہے۔ ماں نہیں تو بیٹی سہی۔ جب مریم نواز پر تنقید ہوتی ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔ جبکہ آج تک اس بیٹی کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکی۔ اسے بھی میرے خلاف کسی نے بھڑکا دیا ہے۔ جیسے نواز شریف کو خوشامدی کالم نگاروں نے بہت جھوٹی باتیں بتا کے بدظن کیا ہے۔ انہیں یقین ہونا چاہئے کہ میں نواز شریف کی طرح کوئی عہدہ کبھی قبول نہیں کروں گا۔ نہ ان سے کبھی کوئی درخواست کروں گا۔ صدر رفیق تارڑ کے گھر انہوں نے مجھے فون پر کہا تھا کہ آپ قربانی والے بہادر آدمی ہو۔ میں نے کہا کہ میں نے آپ کے لئے کچھ نہیں کیا۔ میں جو کرتا ہوں اپنے دل کے لئے کرتا ہوں۔ اپنے اللہ اور اپنے بہادر چیف ایڈیٹر مجاہد صحافت مجید نظامی کے لئے کرتا ہوں۔
میرے بھائی واہ کینٹ سے اورنگ زیب عباسی سچے ن لیگی ہیں۔ وہ جاوید ہاشمی غلام سرور اور شیخ رشید کے درمیان میرے ساتھ واسطے کا کام کرتے ہیں۔ میں ان کا شکر گزار ہوں۔ وہ جاوید ہاشمی کے عاشق ہیں مگر میرے ساتھ متفق ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ پچھلے دنوں پگڑی پر انہوں نے ایک خوبصورت کالم لکھا۔ میرے علاوہ اس کے لئے کون زیادہ خوش ہوا ہو گا۔ میں نے اپنا غم و غصہ جاوید ہاشمی کے لئے اورنگ زیب عباسی تک پہنچا دیا تھا۔ غم زیادہ تھا۔ غصہ کم تھا۔ غم غصے سے بہتر ہے۔ جاوید کو احساس ہے کہ شاہ محمود قریشی جیسے آدمی عمران کو وہاں جا کے گرائیں گے کہ اس کا اٹھ کے کھڑا ہونا ناممکن ہو گا۔ جاوید جانتا ہے کہ جرات  انکار بہت بڑی طاقت ہے۔ اس کے بعد ہی جرات اقرار آتی ہے۔ صرف اقرار کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ میں جمہوریت بچانے کے لئے نواز شریف کے ساتھ ہوں۔ عمران کہتا ہے کہ جمہوریت ہے کہاں؟ یہ تو بنیادی اختلاف ہے جو سامنے آ گیا ہے۔ عمران نے کہا کہ میں اسے کرپٹوکریسی کرتا ہوں۔ یہ … کو گیلانی کے دور حکومت سے چلا آ رہا ہے۔ اور باریاں مقرر ہیں۔ تم ہمیں کچھ نہ کہو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ تم اپنی مدت پوری کرو اور ہمیں اپنی مدت حکومت پوری کرنے دو مگر ’’صدر‘‘ زرداری کی سیاست بہت گہری ہے۔ اس کے لئے جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ اسے سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ تب وہ ن لیگ میں تھے۔ نواز شریف کو ایک سال اپنی حکومت جانے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ نواز شریف کو سمجھنا چاہئے کہ ’’صدر‘‘ زرداری اور جاوید ہاشمی کی حمایت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ زمین ’’صدر‘‘ زرداری کے پاس آسمان جاوید ہاشمی کے پاس ہے۔ جس مشرف کو اس شرط پر گارڈ آف آنر دیا گیا کہ اس کے بعد زرداری صدر ہوں گے۔ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ’’صدر‘‘ زرداری ہی زور دے رہے ہیں۔ بلاول سے بھی بیان دلوائے جا رہے ہیں۔ جب وہ خود کوئی بیان دیتا ہے تو مزہ آ جاتا ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ اپنی سیاست کی خود تعمیر کرے مگر زرداری بڑے طاقتور آدمی ہیں۔ بلاول کو اپنی ماں کے انجام کو نظر میں رکھنا چاہئے۔ جب نااہل اور کرپٹ گیلانی کو عدالت نے برطرف کیا تو ’’صدر‘‘ زرداری نے اسے گھر بھیجا۔ تب آصفہ نے ٹوئٹر پر ناعاقبت اندیش گیلانی کو بہادری کے پیغام دیے تھے۔
دیکھنا ہے کہ جاوید ہاشمی کی تازہ بغاوت پر عمران کا ردعمل کیا آتا ہے۔ اور اس کے بعد جاوید ہاشمی کیسے عمل کرتا ہے۔ کیا عمران جانتا ہے کہ ردعمل اور ردی عمل میں کیا فرق ہوتا ہے۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/10-May-2014/301897

Ajmal Niazi nay aik baar phir BAKWAS KHAN ko dho daala

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی


علامہ اقبال کے ایک زندہ جاوید شعر کا مصرعہ ہے۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتیں بہت ہیں۔ ہمیں نوجوان لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہئے کہ شعر کے دوسرے مصرعے پر بھی غور کریں اور پیروں کا احترام کریں۔ ان سے رہنمائی لیں اور پھر رہنمائی کریں۔ قیادت سیاست اور خدمت بھی ہے جب نواز شریف اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنے تو وہ نوجوان تھے۔ آدمی جتنا بھی بزرگ ہو جائے وہ اپنے آپ کو نوجوان سمجھتا ہے۔ اس فہرست میں ہم بھی شامل ہیں۔ جب سے حفیظ جالندھری کا یہ نغمہ باوقار گلوکارہ طاہرہ سید نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر گایا۔
ابھی تو میں جوان ہوں
لوگ کبھی طاہرہ سید کو دیکھتے اور کبھی شاندار بوڑھی ملکہ پکھراج کو دیکھتے۔ کہتے ہیں کہ دل جوان ہونا چاہئے۔ ہم نے یہ بات اپنے دل کو بڑی دفعہ سمجھائی ہے۔ وہ مانتا ہی نہیں مگر اپنے طور پر جوان ہی رہتا ہے۔
میں نے مصرعہ ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو کے دوران پڑھا تھا۔ جب میں نوجوان سیاستدان حمزہ شہباز سے بات چیت کر رہا تھا۔ یقین مانئے کہ مجھے بڑا مزہ آیا۔ جن خواتین و حضرات نے یہ انٹرویو دیکھا۔ وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ اس سے پہلے حمزہ سے میری بات نہیں ہوئی تھی۔ انہیں نجانے کس نے بلایا تھا۔ مگر ٹی وی کی دوست انتظامیہ نے مجھے حمزہ سے گفتگو کرنے کے لئے کہا تب میں بھی اتنا بوڑھا نہ تھا مگر اتنا نوجوان بھی نہ تھا۔ نجانے جوان اور نوجوان میں کیا فرق ہے؟ حمزہ صاحب‘ شہباز شریف کے صاحبزادے ہیں۔ شہباز شریف اپنی انتظامی صلاحیتوں اور اپنے منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے بہت معروف ہیں۔ حمزہ شہباز اپنے والد محترم کی بہت سی باتوں کو اپنی سرگرمیوں میں یاد رکھتے ہیں۔ وقار اور انکسار کے امتزاج سے اپنا مزاج بنا لیا جائے تو اس کا فائدہ عام لوگوں کو بھی ہو گا اور خود انہیں بھی ہو گا۔ میرے خیال میں رتبے اور عاجزی کو رلا ملا دیا جائے تو اس کے نتائج بہت خوبصورت نکلیں گے۔ تب حمزہ شہباز کے ساتھ ایک نوجوان اشفاق بھی تھا۔ وہ لنگڑا کے چلتا ہے مگر اس کی آنکھوں میں دیکھ کے لگتا ہے کہ وہ اپنی منزل پر ضرور پہنچے گا شاید وہ میرا سٹوڈنٹ بھی رہا ہے۔ وہ حمزہ شہباز کے ساتھ چلنا چاہتا ہے مگر ابھی مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی منزل کیا ہے۔ اس کی منزل وہی ہو، جو ہماری سب کی منزل ہے۔ اس کی آنکھوں میں روشنی ہے اور حمزہ شہباز کے لئے پیار ہے یہ دونوں کیفیتیں مل جائیں تو بات بن جائے گی۔ مگر ہم باتیں بہت بناتے ہیں بات نہیں بناتے۔ ہماری بات تب بنے گی۔ میں نے حمزہ شہباز کے لئے تنقیدی باتیں بھی کی ہیں۔ سچی تنقید کرنے والے کو جائز تعریف کرنا بھی آنا چاہئے۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ اختلاف کرنے کا حق اسے ہے جو اعتراف کرنا بھی جانتا ہو۔ ہمارے اپنے لیڈر کی خرابیاں بھی خوبیاں ہیں اور مخالف لیڈر کی خوبیاں بھی خرائیاں ہیں تعریف سننے والے میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہئے۔ حضرت عمر خطابؓ نے فرمایا کہ میرا دوست وہ ہے جو مجھے میری غلطیوں سے آگاہ کرے۔ جب غلطیوں کا انکشاف کوئی نوجوان کرے تو بات سننے میں توجہ اور حوصلہ کرنا چاہئے۔
میں حمزہ شہباز کے لئے خوش ہوا کہ عمران خان کے مقابلے میں میانوالی میں مسلم لیگ ن کے عبیداللہ خان شادی خیل کی جیت کو ممکن بنا کے واپس لاہور آئے۔ یہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست تھی۔ یہاں سے عمران کی طرف سے عائلہ ملک اپنی امیدواری بھی نہ بچا سکی۔ عدالت سے نااہل ہو گئی۔ پھر اس کے سمدھی اور کزن ایک غیر معروف شخص وحید ملک کو امیدوار بنا دیا گیا۔ لوگ وحید ملک کو جانتے ہی نہ تھے۔ انہوں نے تو عمران خان کو شکست دی۔ عمران نے گھر کی سیٹ چھوڑی۔ گھر والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ ویسے عمران خود بھی اپنے آپ کو ہروانے کے لئے کافی تھے مگر حمزہ شہباز کی ولولہ انگیز تقریر ووٹ دیتے وقت لوگوں کو یاد رہی یہ تقریر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبیداللہ خان شادی خیل کی کامیابی کا سبب بنی۔ عبیداللہ خاں خود بھی میانوالی کے بڑے سینئر سیاستدان ہیں۔ وہ عمران خان کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔ اب بھی اس کے مقابلے میں عمران خان تھے۔ عمران اس حوالے سے بالکل خیال نہیں کریں گے کہ انہوں نے اپنا بہت بڑا نقصان کر لیا ہے۔ اب جس مقام پر عمران خان ہیں۔ وہ میانوالی کے غریبوں نوجوانوں غیرت مند سپوتوں نے دیا ہوا ہے۔
میری گزارش عبیداللہ خان شادی خیل سے ہے کہ وہ میانوالی کو شادباد کر دے۔ وہ ایک نیا عبیداللہ خاں بن کر سامنے آئے۔ اب وہ ایک نظر آنے والی تبدیلی کے ساتھ نظر آئے۔ ترقیاتی کام ہونا چاہیں۔ اس ضمن میں حمزہ شہباز بھی خصوصی توجہ کریں کہ اب میانوالی کا ان پر بھی حق ہے۔ عمران خان یہ فیصلہ کرے کہ وہ میانوالی سے کبھی الیکشن نہیں لڑے گا۔ میانوالی میں عمران نے نمل یونیورسٹی بنائی۔ میں اس کے خلاف نہیں ہوں مگر عمران کو سکولوں اور فنی تعلیمی اداروں کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔ میں اس کی منت کرتا رہا کہ ایک چھوٹا موٹا ہسپتال میانوالی میں بنا دو مگر وعدے کے باوجود وہ کامیاب نہ ہوئے۔ میرے کالم اس بات کے گواہ ہیں۔ میں نے اس کالم کا آغاز کیا تھا کہ میں حمزہ کے علاوہ بھی کچھ نوجوانوں کا ذکر کرنا چاہتا تھا۔ اب یہ تفصیل کسی اگلے کالم میں ہو گی۔ مجھے مریم نواز کا انداز سیاست پسند ہے۔ انہوں نے کئی بار بے نظیر بھٹو کی تعریف کی بلکہ انہیں آئیڈیل کے طور پر نمایاں کیا۔ کیا بے نظیر بھٹو بننا ان کی منزل ہے۔ انہوں نے اپنے والد نواز شریف کے لئے بھی بہت جذبے سے بات کی ہے۔ میاں نواز شریف کے لئے ایسی باتیں حمزہ شہباز بھی کرتا ہے۔ اپنے والد شہباز شریف کا عکس اس کی شخصیت میں جھلکتا ہے۔ وہ بات کرتے ہوئے بار بار ”اپنا“ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ کوئی اپنائیت جو اس کے پاس ہے وہ عوامی سطح تک جانا چاہئے۔ جب ہر طرح کی غیریت ہمارے طرز عمل اور طرز سیاست میں ختم ہو گی تو خیر ہو جائے گی۔ اس کے لئے پاکستان کے لوگوں کی ہر طرح کی تنگ نظری کو ختم کرنا ہو گا۔
مجھے فاطمہ بھٹو کی تحریریں یاد آرہی ہیں وہ ایک گمشدہ شہزادی ہے اور لوگ اسے ملکہ بنانا چاہتے ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری‘ آصف زرداری کے ساتھ بہت نظر آتی ہے۔ لگتا ہے آصف صاحب اپنی اس پیاری بیٹی آصفہ میں اپنا کوئی عکس دیکھتے ہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ خاندانوں کے تسلسل میں گھومتی رہتی ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی ایسا ہی ہے۔ سیاست کے ساتھ صحافت کے میدان میں یہی منظرنامہ نظر آتا ہے اور اچھا لگتا ہے۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/Lahore/2013-09-16/page-3/detail-32

لاہور میں ایک اور کینسر ہسپتال کی ضرورت

لاہور میں ایک اور کینسر ہسپتال کی ضرورت

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

لاہور میں ایک اور کینسر ہسپتال کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر شہریار کینسر کے لئے بہت نامور اور دردمند ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے 400 بیڈ پر مشتمل ہسپتال کے لئے کام شروع کر رکھا ہے۔ عمران کے ہسپتال شوکت خانم کو اب سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ یہاں ڈاکٹر فیصل سلطان بہت محنت کر رہے ہیں۔ میرے بھائی فرخ عزیز خان بھی مریضوں کے لئے خوراک کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہیں اور بڑے خلوص سے اپنے آپ کو کینسر ہسپتال کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ برادرم خواجہ نذیر بھی میڈیا سے ذاتی روابط کے لئے ہسپتال کو بہت ترجیح دیتے ہیں۔ لوگ ہسپتال کو سیاسی معاملات سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر سیاست اب کینسر کی طرح انتظامیہ کے اندر سرایت کرتی جا رہی ہے۔ جاں بلب لوگوں کو داخل ہی نہیں کیا جاتا۔ اس طرح موت کے اعداد و شمار کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ اب بھی بے شمار فنڈز اکٹھے ہوتے ہیں مگر لوگوں کو رقوم کی ادائیگی کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر شہریار کے دل و دماغ میں کوئی سیاسی اور ذاتی عزائم نہیں ہیں۔ جبکہ عمران نے کرکٹ ورلڈکپ کے بعد کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھی تو اس کے ارادوں میں حکمرانی لرز رہی تھی۔ وہ یوں بھی ایک حکمران کا دل لے کے پیدا ہوا ہے۔ جبکہ خدمت خلق کے لئے حکومت کے ساتھ محبت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ وہ ایک تھینک لیس آدمی ہے۔
ڈاکٹر شہریار کی خوش قسمتی کہ ہماری بہت نامور ادیبہ فرحت پروین نے ان کو جائن کر لیا ہے۔ وہ کینسر ہسپتال کی ڈائریکٹر آف آرٹ اینڈ کلچر ہیں۔ ڈاکٹر شہریار بھی تخلیقی آدمی ہیں۔ بہت اچھی گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اہل قلم دوستوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے نامور شاعر اور بہت دوست خالد احمد کے لئے جس دردمندی کا ثبوت دیا۔ ہم اُن کے شکر گزار ہیں۔ ہم انہیں مانتے ہیں مگر فرحت پروین کی وجہ سے پوری تخلیقی برادری کا ایک رشتہ اُن سے قائم ہو گیا ہے۔ فرحت پروین کو بہت اچھے دل والے شاعر اعجاز رضوی کی رفاقت حاصل ہو گئی ہے۔ ہم سب ان محفلوں میں گئے جو کینسر ہسپتال کے لئے بلائی گئی تھیں۔ ڈاکٹر شہریار کی تقریر میں معلومات کے ساتھ محسوسات بھی ہوتے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر شوکت خانم ہسپتال موت کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے لوگوں کی امیدوں پر پورا اترتا تو ڈاکٹر شہریار لوگوں کی توجہ کا مرکز کیوں بنتا۔ بے تحاشا فنڈز جمع ہونے کے باوجود لوگوں کو شوکت خانم سے وہ سہولتیں نہیں ملتیں جن کے لئے ان کا دل تڑپتا ہے۔ یہاں جتنے مریض آتے ہیں انہوں نے کچھ نہ کچھ شوکت خانم ہسپتال کے لئے دیا ہے۔ میرے خیال میں جس شخص نے سو روپے بھی دئیے ہیں۔ اس کا بھق حق ہے کہ وہ شوکت خانم کینسر ہسپتال کو اپنا ہسپتال سمجھنے میں حق بجانب ہے۔ مجھے کئی لوگوں کی طرف سے کئی بار بڑی افسوسناک شکایات ملیں مگر میں چُپ رہا۔ مجھے میرے بہت شاندار اور اچھے ہمسائے ڈی فائیو وحدت کالونی کے عبدالشکور نہیں بھولتے۔ وہ ابھی دو تین سال نہ مرتے مگر انہیں شوکت خانم کے ڈاکٹروں نے موت کا خوف دلا کے بے بس کر دیا۔ مجھے بھابھی مسز عبدالشکور نے بتایا کہ شوکت خانم کے ڈاکٹر اطہر کاظمی نے شکور صاحب کو کہا آپ چند دنوں کے مہمان ہیں۔ گھر جاﺅ اپنے بچوں کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزارو اور ہنسی خوشی مر جاﺅ۔ شکور صاحب اپنے پاﺅں پر چل کر ہسپتال پہنچے تھے۔ اتنے گھبرائے کہ سٹریچر پر سروسز ہسپتال آ گئے۔ انہیں شوکت خانم میں صرف پین کلر دئیے جاتے رہے۔ ڈاکٹر کا کام یہ نہیں کہ وہ مرتے ہوئے مریض کو بھی اس طرح کہے۔ ڈاکٹر ہارون کا رویہ بھی اچھا نہ تھا۔ ڈاکٹر فیصل سلطان سے میری بات ہوئی وہ اچھی طرح بات کرتے رہے۔ خواجہ نذیر نے بھی تسلی دلائی مگر اب مریض خود اپنے ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔
شہباز شریف بھی ڈاکٹر توقیر شاہ کے ساتھ اپنے بہترین صلاحیتوں والے ساتھی کو دیکھنے سروسز گئے مگر اب وقت کسی کے قابو میں نہ تھا۔ میں بھی شکور صاحب سے ملا۔ اُن کی آنکھوں میں کہیں اور چلے جانے کی خبریں اڑ رہی تھیں۔ اب عمران خان کی سیاست اور وزیراعظم بننے کی خواہش نے شوکت خانم کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میں نے خود اس ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لئے کئی شہروں کا سفر کیا۔ سول سوسائٹی کے سب خواتین و حضرات نے اس ہسپتال کے لئے دل سے سوچا اور جو ہو سکا کر دیا۔ محبوب فنکار دلدادار بھٹی امریکہ میں شوکت خانم کے لئے جھولی پھیلاتے ہوئے مر گیا۔ عمران نے کبھی اُسے یاد نہیں کیا۔ سب فنکاروں ادیبوں شاعروں تاجروں عورتوں بچوں بوڑھوں نے اس ہسپتال کے لئے کیا جو وہ پاکستان کے لئے کرنا چاہتے ہیں۔ سیاستدانوں نے جو پاکستان کا حال کیا ہے۔ کینسر ہسپتال کا بھی اب پاکستان والا حال ہوتا جا رہا ہے۔ عمران سیاستدان بن گیا ہے۔
برادرم اعجاز رضوی ڈاکٹر شہریار کے ہسپتال کے سارے منصوبے کا احوال لے کے میرے پاس آیا۔ میں نے ایک محفل میں ڈاکٹر شہریار کی باتیں سنیں۔ فرحت پروین نے سب دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر عریشہ زمان، ڈاکٹر شاہینہ آصف، ڈاکٹر نازش نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر شہریار سمجھتے ہیں کہ اب پاکستان میں تین لاکھ افراد کینسر کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں کینسر کے لئے ریسرچ کی ضرورت بھی ہے اور یہ عالمی معیار کے مطابق ہونی چاہئے۔ مقامی حالات کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ فرحت پروین کے لئے خاص طور پر اعجاز رضوی کے لئے عام طور پر ممنون ہیں کہ وہ اہل قلم کو بھی متوجہ کر رہے ہیں۔ اس طرح اہل قلم کا اہل دل بننے کا قوی امکان ہے۔
جب شوکت خانم میں عمران کی عیادت کے لئے نوازشریف پہنچے تو انہوں نے کہا کہ آپ خوراک کا بھی خاص خیال رکھیں۔ کیا آپ کو ڈاکٹر نے شیر کے تکے بنا کے کھانے کا مشورہ نہیں دیا۔ اس دوران اخبارات میں یہ رپورٹ بھی شائع ہوئی ہے کہ اب امریکہ سے عمران کو فنڈز ملنا بند ہو جائیں گے۔ وہاں فوزیہ قصوری کے بعد ڈاکٹر نصراللہ عمران کے لئے سب سے زیادہ خلوص کے ساتھ وابستہ تھے۔ انہوں نے جب ساتھیوں کے کہنے پر لاکھوں ڈالروں کا حساب کتاب کے لئے عمران سے پوچھا کہ پارٹی مافیا اور خودغرض لوگوں نے اس میں الجھاﺅ پیدا کر دیا ہے تو عمران نے اُسے بری طرح ڈانٹ دیا اور کہا کہ اس معاملے میں اپنی بکواس بند کرو۔ یہ جملہ 29 جولائی کی ای میل پیغام میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح کی باتیں گلوکار ابرارالحق کے حوالے سے بھی سامنے آئی ہیں۔ اس نے بھی اپنی ماں صغریٰ شفیع کے نام سے نارووال میں ہسپتال کے لئے یورپ سے فنڈز ریزنگ کی۔ وہ نارووال سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ن لیگ کے احسن اقبال سے بُری طرح الیکشن ہار گیا ہے۔ میری گزارش ڈاکٹر شہریار سے ہے کہ وہ غریب مریضوں کے لئے ہسپتال بنائے اور اس کے بعد اپنی سیاسی پارٹی نہ بنائے۔ عمران اب پشاور میں کینسر ہسپتال بنا رہا ہے مگر اس نے اپنے آبائی شہر میانوالی میں میرے بار بار کہنے کے باوجود ایک چھوٹا سا ہسپتال بھی نہیں بنوایا۔ میانوالی میں غریب خواتین و حضرات راستوں میں مر جاتے ہیں۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/21-Aug-2013/233525

تحریک انصاف میں موروثی سیاست اور عمرانی نظریہ

 تحریک انصاف میں موروثی سیاست اور عمرانی نظریہ



ضمنی الیکشن میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے اپنے داماد کو ٹکٹ دلوایا ہے۔ سپیکر سرحد اسمبلی اسد قیصر نے اپنے بھائی کو اور عائلہ ملک نے اپنے سمدھی کو عمران خان سے ٹکٹ دلوایا ہے۔ موروثی سیاست کا الزام پیپلز پارٹی‘ ن لیگ اور ق لیگ پرکیوں ہے؟ اسد عمر بھی جنرل عمر کا بیٹا ہے اور اس نے بنگلہ دیش بنوایا تھا۔ ان کے لئے عمران ووٹ مانگ رہا ہے اور کہتا ہے کہ نظریے کو ووٹ دو۔ ان تینوں چاروں کے نظریات مختلف ہیں ہم نظریہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نظریہ پاکستان یعنی دو قومی نظریہ ہوتا ہے۔ تحریک انصاف والوں کو معلوم ہے کہ نظریہ پاکستان کیا ہے؟ انہیں عمرانی نظریے کا بھی پتہ نہیں؟ ضمنی نتائج حکومت والوں کی مرضی سے مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہی انتخابی رواج ہے۔ عمران خان کا نظریہ ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا کی ٹکٹوں کے لئے مسلم لیگ ن کی طرف سے عمران کے لئے راہ ہموار کی گئی اور پرویز خٹک نے کہا کہ شہباز شریف میرے لئے رول ماڈل ہیں۔ شاید اسی لئے عمران خان کہتے ہیں کہ میں خود پشاور میں بیٹھوں گا۔ خیبر پختونخوا کے لئے وزیراعظم عمران خان ہوںگے۔ کیا خیبر پختونخوا میں دھاندلی نہیں ہو گی؟
مجھے تو لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت تحریک انصاف یعنی عمران خان کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے۔ حکومت تو ہر کہیں ریت کی طرح ہوتی ہے۔ عمران کے نوجوان کہتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے دن بھی تھوڑے ہیں مگر عمران نے اپنے پیچھے مولانا فضل الرحمن کو لگا لیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نواز شریف اور چودھری نثار کی سیاست ہے۔ ضمنی انتخاب کے بعد کیا ہو گا۔ عمران کے لئے اس بات پر غور فرمائیں کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر ن لیگ کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ کیونکہ ضمنی الیکشن میں بھی شکست صاف نظر آرہی ہے بلکہ تحریک انصاف میں شکست و ریخت مسلسل ہو رہی ہے۔ ایک بات بہت واضح ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی دیرینہ خواہش ہے اور بہت دیر ہو گئی ہے۔ وزیراعظم بننے کی خواہش تو ڈاکٹر طاہر القادری کی بھی ہے۔ دونوں کو جنرل مشرف نے دھوکہ دیا۔ جسے وزیراعظم بننا تھا۔ اس نے انتظار کیا اور صبر کیا۔ ہمارے سیاستدانوں میں صبر اور انتظار کی عادت نہیں ہے۔ امارت کی طرح وزارت کے بارے میں بھی خیال ہے کہ صبح آنکھ کھلے تو ہم امیر کبیر ہو جائیں اور وزیراعظم بن جائیں۔ نواز شریف کی سیاست کامیاب رہی۔ انہوں نے شاہی اپوزیشن کی اور پھر فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ سنا اور وزیراعظم بن گئے۔
مولانا پر عمران خان نے الزام لگایا کہ انہوں نے امریکی سفیر سے کہا کہ مجھے وزیراعظم بنا دو اور پھر جو چاہے کرو اور کرا لو۔ عمران کے بارے میں مولانا کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر سے عمران خان نے کہا کہ مجھے وزیراعظم بنا¶۔ طالبان کے ساتھ صرف میں معاملات طے کروا سکتا ہوں۔ مجھے طالبان خان بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے لانگ مارچ بھی کیا۔ مگر کوئک مارچ نہ ہوا۔ نجانے یہ پلاننگ طالبان کے حق میں تھی امریکہ کے حق میں یا اپنے حق میں تھی ناحق اور حق میں فرق ہوتا ہے۔ جو ہمارے بے چہرے حکمرانوں کو معلوم نہیں ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن کے بھی طالبان سے بہت تعلقات ہیں مگر قرعہ فال نواز شریف کے حصے میں نکلا۔ اب فال نکالنے والے ان سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ سنا ہے اس کے بعد باری عمران خان کی ہے شاید خیبر پختونخوا میں باری مولانا صاحب کی نکل آئے۔ وہ مرکز میں حکومت کی بجائے اپوزیشن لیڈری کے لئے کوشش کریں گے۔ کہتے ہیں اپوزیشن میں بھی پوزیشن بہت ہوتی ہے۔ عمران اپوزیشن میں بھی حکمرانی کا قائل ہے بلکہ گھائل ہے۔
عمران کو جائن کرنے والے بھی کئی دفعہ وزیر شذیر رہ چکے ہیں۔ عمران بھی انہی کو وزیر شذیر بنائے گا۔ مزید ٹھیک ہے مگر تجربہ ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جو سیاستدان حکومتی جرائم اور کرپشن سے توبہ کرتا ہے اس کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی۔ وہ تحریک انصاف جائن کرکے عمران کے پہلو میں بیٹھ جاتا ہے۔ بڑی دیر سے کھانے پینے میں مصروف شخص سے پوچھا گیا کہ رج گئے ہو اس نے ہاتھ اور منہ صاف کئے بغیر کہا تھک گیا ہوں۔ کئی سیاستدان حکمران اور افسران ابھی تھکے نہیں ہیں۔ لگے ہوئے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ تحریک انصاف کا آئین کیا ہے۔ جواب ملا یہ تو پتہ نہیں۔ اتنا پتہ ہے کہ عمران کا آئینہ عائلہ ملک ہے۔ عمران کہتا ہے کہ نظریے کو ووٹ دو۔ میانوالی سے وحید ملک کو عائلہ ملک کا چہرہ مبارک دیکھ کر ووٹ دو یہ کوالی فکیشن کیا کم ہے کہ وحید ملک عائلہ ملک کا سمدھی ہے۔
پشاور میں غلام احمد بلور پھر مقابلے میں آگیا ہے۔ اب انہیں مولانا کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ یہ بلور کی حمایت نہیں ہے عمران کی مخالفت ہے بغض معاویہ یہی ہوتا ہے۔ عمران خان اپنی جیتی ہوئی سیٹ ہار گیا تو کیا ہو گا۔ وہ زیادہ خوش ہو گا کہ اب میرے وزیراعظم بننے کا چانس پکا ہے؟ پنجاب کے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کے بیٹے کے جنازے میں عمران کے بہنوئی اور چچازاد بھائی حفیظ اللہ خان نے اس کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ یہ کیا وقت آگیا ہے عمران رشتوں اور رابطوں میں اتنا فرعون کیوں ہے۔ حفیظ اللہ خاں بھی کم نہیں ہے۔ اس کا بھائی ہے۔ جب شوکت خانم میں پیٹ درد کے حوالے سے عمران داخل ہوا تو اس کے محسن بھائی حفیظ اللہ خان نے مجھے کہا کہ تم ایک کالم عمران خان کے لئے لکھو۔ ایک جملہ عمران خان کو چبھ گیا۔ عمران میرا دوست ہے نہ میرا لیڈر ہے مگر میرا بھائی تو ہے۔ اب محسوس ہوا ہے کہ وہ بھائی بھی نہیں ہے۔ پہلے میانوالی کے غیرت مندوں نے بھائی سمجھ کر عمران کو ووٹ دئیے تھے۔ کیا اب عائلہ ملک کو اپنی بہن سمجھ کے ووٹ دیں گے۔ تحریک انصاف کے ایک سچے اور بہادر کارکن جمشید امام کا شعر ہے
میں اپنی ماں کے قدموں کا فقط بوسہ لیتا ہوں
دوا کے واسطے میری جیبوں میں اکثر کچھ نہیں ہوتا

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/20-Aug-2013/233244

میانوالی کی لیڈر عائلہ ملک یا عائلہ لغاری

میانوالی کی لیڈر عائلہ ملک یا عائلہ لغاری
کالم نگار | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی 

عمران خان تین انتخابی حلقوں سے جیت گئے۔ مگر ایاز صادق نے انہیں بُری طرح شکست دی۔ ایاز صادق کو امید نہ تھی مگر مجھے امید تھی۔ یہ کامیابی شریف برادران کو پسند آئی اور ایاز صادق سپیکر قومی اسمبلی بن گئے۔ عمران خان سے ایاز صادق نے حلف لیا۔ وہ اتنے خوش ہوئے کہ چودھری نثار سے جپھی ڈال لی۔ سیاسی سنگدلی دیکھیں کہ یہ بات جاوید ہاشمی کے ایک سیاسی بیان سے بڑا جرم تھا مگر غیرت مند تحریکی جوانوں میں سے کسی نے عمران سے معافی کا مطالبہ نہ کیا جبکہ انہیں معافی مانگنے کا وسیع تجربہ ہے اسی نسبت سے غلطیاں کرنے کی بڑی عادت ہے۔ میں نے تب کہا تھا کہ کسی امیدوار کو صرف ایک حلقے سے الیکشن لڑنے کی اجازت ہونا چاہئے۔ یہ ہوتا تو عمران خان صرف میانوالی سے الیکشن لڑتا۔ مگر کس قدر بے وفائی اور مفاد پرستی ہے کہ عمران نے میانوالی کی نشست چھوڑ دی ہے۔ پشاور میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور یہ سیٹ بھی چھوڑ دی گئی ہے شاید تحریک انصاف کا آدمی پشاور سے تو جیت جائے مگر میانوالی سے جعلی ڈگری پر نااہل ہونے والی عائلہ ملک کے غیر معروف غیر سیاسی سمدھی وحید ملک کی جیت ناممکن ہے؟ اس بات پر عمران کو میانوالی کے غیرت مند لوگوں سے معافی مانگنا چاہئے۔ عائلہ ملک عمران خان کی بہت قریبی ساتھی ہے اور اُسے معلوم نہ ہو سکا کہ اس کے پاس ایف اے کی سند بھی جعلی ہے۔ عائلہ ملک کی جعل سازیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ شکر ہے کہ وہ الیکشن سے پہلے ہی نااہل ہو گئی ہے۔ اس کا جیتنا مشکل تھا مگر شاید میانوالی کے لوگ عمران کی محبت میں اندھے بہرے ہو کر عائلہ کو اپنا لیڈر بنا لیتے تو یہ داغ میانوالی کی سیاسی پیشانی سے کبھی دور نہ ہوتا۔ میں عورتوں کے لئے بہت کشادہ دل ہوں۔ ہر طرح اُن کا حامی ہوں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں عورتوں نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ سیاست میں اور صحافت میں ان کا بہت نام ہے۔ مگر میانوالی کا ایک کلچر ہے اور ہمیں اس کا احساس کرنا چاہئے۔ میانوالی سے محترمہ ذکیہ شاہنواز ن لیگ سے مخصوص نشستوں پر ممبر پنجاب اسمبلی ہیں۔ اپنے وقار اور اعتبار کی وجہ سے بہت احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہیں۔ وہ ن لیگ کے امیدوار شادی خیل کی بہت سپورٹ کر رہی ہیں۔ وہ آجکل صوبائی وزیر ہیں۔ وہ بہت قابل ہیں اور اہل ہیں جبکہ ٹیکسلا سے غلام سرور خان چودھری نثار کو ہرا کر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم این اے ہوئے مگر جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے۔ تحریک انصاف نے ان کی بنیادی رکنیت معطل کر دی۔ مگر عائلہ ملک کو عمران خان نے داﺅد خیل میں دلیر کہا۔ وہ جعلی ڈگری پر جنرل مشرف کی ہدایت کے مطابق ق لیگ کے ٹکٹ پر پانچ سال تک ایم این اے بنی رہیں۔ وہ نواب کالاباغ ملک امیر محمد خان کی پوتی ہے وہ بہادر اور غیرت مند انسان تھے۔ عائلہ اور سمیرا کو اُن کے ماموں صدر فاروق لغاری سیاست میں لے کے آئے تھے۔ میں نے لکھا تھا کہ اب وہ اپنے نام کے ساتھ لغاری لکھا کریں۔ عائلہ لغاری اور سمیرا لغاری۔ سمیرا ن لیگ میں ہیں۔ اسی زمانے میں عائلہ بلوچ سیاستدان اور وزیر رند صاحب کی بیوی بن گئیں۔ انہوں نے عائلہ ملک کو گھر سے ہی نکلنے نہ دیا۔ عمران خان نے میانوالی میں کسی بہتر امیدوار کی بجائے عائلہ ملک کے سمدھی وحید ملک کو ٹکٹ دیا ہے جو عائلہ کا چچا زاد ہے اور مظفر ملک کا بیٹا ہے چند ماہ پہلے عائلہ ملک کی بیٹی کی شادی وحید ملک کے بیٹے کے ساتھ ہوئی ہے۔ سنا ہے کہ مظفر ملک کے بھائی اسد ملک نے وحید ملک اور عائلہ ملک کی مخالفت کا اعلان کر دیا ہے۔ میانوالی سے اطلاعات آئی ہیں کہ وہاں ن لیگ کے امیدوار عبیداللہ خان شادی خیل کی پوزیشن بہت اچھی ہے۔ یہاں سے تحریک انصاف کی شکست بہت بڑی شکست ہو گی۔ میانوالی کے وفا حیا والے لوگوں سے عمران خاں نے بہت بڑا انتقام لیا ہے۔ بھٹو صاحب‘ بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف‘ شہباز شریف‘ جاوید ہاشمی کے علاوہ کسی نے اپنی آبائی گھریلو سیٹ نہیں چھوڑی تھی جب تحریک انصاف کو صرف ایک سیٹ ملی تھی۔ وہ میانوالی سے عمران خان کی سیٹ تھی۔
مجھے میانوالی سے کئی دوستوں نے کہا تو میں نے کہا تھا کہ عمران خان میانوالی کو نہ چھوڑیں۔ برادرم رفیع اللہ خان روکھڑی بہت جذباتی ہو گئے تھے۔ بعد میں عمران خان کے لئے اختلافی بات پر مجھ سے لڑ پڑے۔ اب ان کا کیا خیال ہے؟ قمرمثانی کے نوجوان ورکرز عمران کی گاڑی کے آگے کھڑے ہو گئے۔ ثناءاللہ خان نے کہا کہ یہ کیا تبدیلی آپ میانوالی میں لا رہے ہیں۔ آپ نے میانوالی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اب اپنی سیٹ پر ایک غیر نمائندہ اور غیر پسندیدہ آدمی کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ عمران نے کہا کہ آپ نظریے کو ووٹ دو۔ اس نے کہا آپ نے نظریے کو ٹکٹ دیا ہے؟ عائلہ ملک جیسے خواتین و حضرات کی خاطر عمران نے تن من دھن کی بازی لگا دی ہے۔
میانوالی کے لوگوں کا خیال تھا کہ نامور گلوکار عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ عطاءاللہ کو اللہ نے بہت عزت دی ہے مگر عمران بے شمار عزت کو سنبھال نہیں سکا جو اللہ نے اسے بخش دی ہے۔ شریف برادران کے لئے لوگ کہتے ہیں کہ وہ مغرور ہیں مگر اصل غرور تو عمران کی آنکھوں میں لکھا ہوا ہے۔
راولپنڈی کے لئے جاوید ہاشمی کی سیٹ پر بہت جنوئن اور جانثار ساتھی ڈاکٹر اسرار شاہ کی بجائے اپنے دوست اسد عمر کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا بھی بلند و بالا اور بہادر سیاستدان لگتا ہے۔ اسد عمر جنرل عمر کا بیٹا ہے جو مشرقی پاکستان توڑنے میں حصہ دار تھا۔ اسے بعد میں برطرف کر دیا گیا تھا۔ عمران نے ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر معافی مانگی ہے۔ اب دوسری شکست پر دوسری بار معافی مانگے گا۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/19-Aug-2013/233063

Blogroll