Showing posts with label Shahbaz Sharif. Show all posts
Showing posts with label Shahbaz Sharif. Show all posts

Shobaz Sharif is better than BAKWAS KHAN

http://e.jang.com.pk/09-08-2014/pindi/pic.asp?picname=06_09.gif

جاوید ہاشمی کی تازہ بغاوت

ایک بار پھر جاوید ہاشمی نے ثابت کیا ہے کہ واقعی وہ باغی ہے۔ اس نے پھر کہا کہ میں جمہوریت کے لئے نواز شریف کے ساتھ کندھا ملا کے کھڑا ہوں گا۔ آج کل اس کا کندھا بھی اندھا ہو گیا ہے۔ وہ بہت کمزور ہو گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن چھوڑ کر تحریک انصاف میں ان کا تجربہ مختلف نہیں رہا۔ عمران، نواز شریف سے بڑا ڈکٹیٹر ہے۔ نواز شریف پھر بھی ایک اچھے دل والا آدمی ہے۔ مروت اور محبت اس میں ہے۔ وہ اپنے ساتھ مہربانی کو یاد رکھنے والا ہے۔ ’’صدر‘‘ زرداری کی طرح یہ فیصلہ اس نے خود کرنا ہوتا ہے کہ کس مہربانی کو یاد رکھنا ہے اور کس کی مہربانی کو یاد رکھنا ہے۔ بہرحال جاوید ہاشمی کے لئے کچھ تحفظات کے باوجود وہ ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
کلثوم نواز کی تحریک جو بعد میں تحریک جلا وطنی بن گئی تھی اس میں تہمینہ دولتانہ خواجہ سعد رفیق اور جاوید ہاشمی دل و جان سے ان کے ساتھ تھے۔ ہم بھی کلثوم بی بی کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو غیرمتوقع طور پر ایک سیاستدان بلکہ لیڈر ثابت کر دیا تھا۔ بڑے میاں صاحب میاں شریف نے بھی اسے شاباش دی تھی۔ فون پر ان سے بات ہوئی تھی۔ کالج میں وہ ہمارے ساتھ تھی۔ شاید کچھ جونیئر ہو مگر اب وہ مجھے کچھ بھول گئی ہیں۔ ورنہ وہ جاوید ہاشمی کے پاس چلی گئی ہوتیں تو وہ تحریک انصاف کی سیاسی بے انصافیوں سے بچ جاتا۔ اس نے ن لیگ چھوڑ کر سیاسی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی۔ یہ غلطی میرے بھائی بچے، بہادر اور نظریاتی آدمی عمران کے کزن اور بہنوئی حفیظ اللہ نیازی نے کی۔ یہ زیادتی اس نے اپنے بھائی بہت زبردست انسان انعام اللہ خان نیازی کے ساتھ بھی کی۔ اسے کہیں کا نہ رکھا۔ شکر ہے کہ اب اس کے ایم پی اے بھائی نجیب اللہ خان نیازی نے ن لیگ جائن کر لی ہے۔ نجیب مجھے پسند ہے۔ ان کو اپنے بھائی حفیظ اللہ نیازی کی محبت لے بیٹھی۔ بڑے بھائی دبنگ آدمی سعیداللہ خان نیازی نے اس فیصلہ کی مخالفت کی تھی۔ انعام ن لیگ میں ہوتا تو ممبر اسمبلی ہوتا اور وزیر بھی ہوتا۔ حفیظ عمران کی محبت میں اندھا تھا۔ اس کے ساتھ عمران نے کیا کیا۔ وہ عمران کا محسن ہے۔
عمران کو نواز شریف سے سیکھنا چاہئے کہ گھر کی اور گھر والوں کی طاقت کیسی ہوتی ہے۔ پنجاب کا وزیراعلیٰ پہلے بھی شہباز شریف تھا اور اب بھی ہے۔ یہ نہیں تو یہ بات چودھری شجاعت اینڈکوکوطاقت رشتوں کی سانجھ میں ہے۔ مگر عمران پرلے درجے کا بے وقوف آدمی ہے۔ اس کے امیر کبیر مشیر اس پر حاوی ہیں۔
قومی اسمبلی میں جاوید ہاشمی نے کہہ دیا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم ہوا ہے۔ وہ میرا لیڈر تھا اور لیڈر ہے۔ تو اس میں غلط کیا ہے اور غیرسیاسی بات کیا ہے۔ یہ اعلیٰ ظرفی ہے، کشادگی ہے۔ جاوید کی سادہ دلی ہے۔ عمران کو تنگ نظری، تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تحریک انصاف کے بے لگام نوجوانوں نے سوشل میڈیا اور فیس بک پر جو کچھ جاوید ہاشمی کے ساتھ کیا گیا وہ شرمناک ہے۔ خدا کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ جاوید ہاشمی عمران سے بڑا لیڈر ہے مگر عمران نے اسے شاہ محمود قریشی سے بھی کمتر سیاستدان بنا دیا ہے جبکہ ’’صدر‘‘ زرداری نے دوسری بار اسے وزیر خارجہ بنا دیا ہوتا تو حنا ربانی کھر اس سے بہتر وزیر خارجہ نہ بن پاتی۔ ایسا تو ن لیگ میں بھی نہ تھا۔ وہاں بھی چودھری نثار کو جاوید پر ترجیح دی گئی مگر یہ نہ تھا جو یہاں ہے۔ آج بھی چودھری نثار نواز شریف سے کم چیز نہیں ہے۔
جب عمران کے غصے کے لپیٹ میں آ کے جاوید ہاشمی نے اپنا بیان واپس لیا تو وہ میرے دل سے اتر گیا۔ میں اس کے ساتھ محبت کرتا تھا۔ اس کی بیٹیوں کو اپنی بیٹی جانتا تھا۔ ایک بیٹی کی شادی میں جاوید ہاشمی کی جیل سے شرکت کو یقینی بنانے میں میرا کردار بھی ہے۔ آج بھی جاوید کو یاد ہو گا کہ ملتان ائر پورٹ سے بھی فون کیا تھا اور کہا تھا کہ جس طرح تم نے کالم میں لکھا تھا اسی طرح پولیس والے مجھے جیل سے شادی ہال میں لے گئے ہیں۔
جاوید ہاشمی ایک باغی ہیں۔ وہ ڈٹ جاتے اور عمران سے کہتے کہ آپ میرے لیڈر ہیں مگر میں نے علامتی بات کی ہے۔ بات ہو گئی ہے۔ اب بات واپس لینا رسوائی ہے۔ مگر جاوید نے بیان واپس لے لیا اور میرے ساتھ اس کی دوستی ختم  ہو گئی۔ اور جاوید ہاشمی کی سیاسی شخصیت کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ شاہ محمود قریشی بہت خوش ہیں۔ اب جاوید کو پتہ چلا ہو گا کہ چودھری نثار قریشی سے بہت بڑا آدمی ہے۔ مگر میں آج اعلان کرتا ہوں کہ وہ پھر سے میرے دوست  ہیں اور میں انہیں سلام کرتا ہوں۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ جاوید مجھے دوست سمجھتا ہے کہ نہیں۔
جاوید نے کراچی میں تحریک انصاف میں شرکت کے وقت اپنی تقریر میں کہا تھا کہ عمران خان سن لو کے میں باغی ہوں۔ میں نواز شریف سے بغاوت کر سکتا ہوں تو آپ کے ساتھ بھی کر سکتا ہوں۔ ہم اس لمحے کے منتظر ہیں کہ وہ اپنی بات کو سچ کر دکھائے۔ سچ ہے کہ کوئی جماعت اسلامی سے نکل جائے مگر جماعت اس میں سے نہیں نکلتی۔ یہ حال نواز شریف کے ساتھ بھی ہے۔ ممکن ہے کہ ن لیگ چھوڑنے والے کے دل سے ن لیگ بھی نکل جائے۔ مگر جماعت اس میں سے بھی نہیں نکلتی۔ یہ حال نواز شریف کے ساتھ بھی ہے۔ ممکن ہے کہ ن لیگ چھوڑنے والے کے دل سے ن لیگ بھی نکل جائے مگر نواز شریف نہیں نکلتا۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ جاوید ہاشمی کو دوبارہ ن لیگ جائن کر لینا چاہئے۔ اس کے لئے خواجہ سعد رفیق نے بہت کوشش کی تھی۔ وہ پھر کوشش کریں۔ کلثوم بھی ساتھ ملائیں۔ اس کوشش میں کلثوم نواز کو بھی شریک ہونا چاہئے۔ اس کار میں تہمینہ دولتانہ کے ساتھ جاوید ہاشمی بھی تھے جو کئی گھنٹے تک پولیس کے لئے عذاب بنی رہی تھی۔ میں نے تہمینہ بی بی سے کہا تھا کہ وہ کلثوم کو سیاست سے الگ نہ ہونے دے مگر…؟ اب کلثوم نواز نے مریم نواز کو سیاست میں لا کے ایک اچھا اقدام کیا ہے۔ ماں نہیں تو بیٹی سہی۔ جب مریم نواز پر تنقید ہوتی ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔ جبکہ آج تک اس بیٹی کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکی۔ اسے بھی میرے خلاف کسی نے بھڑکا دیا ہے۔ جیسے نواز شریف کو خوشامدی کالم نگاروں نے بہت جھوٹی باتیں بتا کے بدظن کیا ہے۔ انہیں یقین ہونا چاہئے کہ میں نواز شریف کی طرح کوئی عہدہ کبھی قبول نہیں کروں گا۔ نہ ان سے کبھی کوئی درخواست کروں گا۔ صدر رفیق تارڑ کے گھر انہوں نے مجھے فون پر کہا تھا کہ آپ قربانی والے بہادر آدمی ہو۔ میں نے کہا کہ میں نے آپ کے لئے کچھ نہیں کیا۔ میں جو کرتا ہوں اپنے دل کے لئے کرتا ہوں۔ اپنے اللہ اور اپنے بہادر چیف ایڈیٹر مجاہد صحافت مجید نظامی کے لئے کرتا ہوں۔
میرے بھائی واہ کینٹ سے اورنگ زیب عباسی سچے ن لیگی ہیں۔ وہ جاوید ہاشمی غلام سرور اور شیخ رشید کے درمیان میرے ساتھ واسطے کا کام کرتے ہیں۔ میں ان کا شکر گزار ہوں۔ وہ جاوید ہاشمی کے عاشق ہیں مگر میرے ساتھ متفق ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ پچھلے دنوں پگڑی پر انہوں نے ایک خوبصورت کالم لکھا۔ میرے علاوہ اس کے لئے کون زیادہ خوش ہوا ہو گا۔ میں نے اپنا غم و غصہ جاوید ہاشمی کے لئے اورنگ زیب عباسی تک پہنچا دیا تھا۔ غم زیادہ تھا۔ غصہ کم تھا۔ غم غصے سے بہتر ہے۔ جاوید کو احساس ہے کہ شاہ محمود قریشی جیسے آدمی عمران کو وہاں جا کے گرائیں گے کہ اس کا اٹھ کے کھڑا ہونا ناممکن ہو گا۔ جاوید جانتا ہے کہ جرات  انکار بہت بڑی طاقت ہے۔ اس کے بعد ہی جرات اقرار آتی ہے۔ صرف اقرار کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ میں جمہوریت بچانے کے لئے نواز شریف کے ساتھ ہوں۔ عمران کہتا ہے کہ جمہوریت ہے کہاں؟ یہ تو بنیادی اختلاف ہے جو سامنے آ گیا ہے۔ عمران نے کہا کہ میں اسے کرپٹوکریسی کرتا ہوں۔ یہ … کو گیلانی کے دور حکومت سے چلا آ رہا ہے۔ اور باریاں مقرر ہیں۔ تم ہمیں کچھ نہ کہو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ تم اپنی مدت پوری کرو اور ہمیں اپنی مدت حکومت پوری کرنے دو مگر ’’صدر‘‘ زرداری کی سیاست بہت گہری ہے۔ اس کے لئے جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ اسے سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ تب وہ ن لیگ میں تھے۔ نواز شریف کو ایک سال اپنی حکومت جانے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ نواز شریف کو سمجھنا چاہئے کہ ’’صدر‘‘ زرداری اور جاوید ہاشمی کی حمایت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ زمین ’’صدر‘‘ زرداری کے پاس آسمان جاوید ہاشمی کے پاس ہے۔ جس مشرف کو اس شرط پر گارڈ آف آنر دیا گیا کہ اس کے بعد زرداری صدر ہوں گے۔ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ’’صدر‘‘ زرداری ہی زور دے رہے ہیں۔ بلاول سے بھی بیان دلوائے جا رہے ہیں۔ جب وہ خود کوئی بیان دیتا ہے تو مزہ آ جاتا ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ اپنی سیاست کی خود تعمیر کرے مگر زرداری بڑے طاقتور آدمی ہیں۔ بلاول کو اپنی ماں کے انجام کو نظر میں رکھنا چاہئے۔ جب نااہل اور کرپٹ گیلانی کو عدالت نے برطرف کیا تو ’’صدر‘‘ زرداری نے اسے گھر بھیجا۔ تب آصفہ نے ٹوئٹر پر ناعاقبت اندیش گیلانی کو بہادری کے پیغام دیے تھے۔
دیکھنا ہے کہ جاوید ہاشمی کی تازہ بغاوت پر عمران کا ردعمل کیا آتا ہے۔ اور اس کے بعد جاوید ہاشمی کیسے عمل کرتا ہے۔ کیا عمران جانتا ہے کہ ردعمل اور ردی عمل میں کیا فرق ہوتا ہے۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/10-May-2014/301897

Sharmnak Reality for PTI TROLLS


لاہور میں ایک اور کینسر ہسپتال کی ضرورت

لاہور میں ایک اور کینسر ہسپتال کی ضرورت

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

لاہور میں ایک اور کینسر ہسپتال کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر شہریار کینسر کے لئے بہت نامور اور دردمند ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے 400 بیڈ پر مشتمل ہسپتال کے لئے کام شروع کر رکھا ہے۔ عمران کے ہسپتال شوکت خانم کو اب سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ یہاں ڈاکٹر فیصل سلطان بہت محنت کر رہے ہیں۔ میرے بھائی فرخ عزیز خان بھی مریضوں کے لئے خوراک کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہیں اور بڑے خلوص سے اپنے آپ کو کینسر ہسپتال کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ برادرم خواجہ نذیر بھی میڈیا سے ذاتی روابط کے لئے ہسپتال کو بہت ترجیح دیتے ہیں۔ لوگ ہسپتال کو سیاسی معاملات سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر سیاست اب کینسر کی طرح انتظامیہ کے اندر سرایت کرتی جا رہی ہے۔ جاں بلب لوگوں کو داخل ہی نہیں کیا جاتا۔ اس طرح موت کے اعداد و شمار کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ اب بھی بے شمار فنڈز اکٹھے ہوتے ہیں مگر لوگوں کو رقوم کی ادائیگی کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر شہریار کے دل و دماغ میں کوئی سیاسی اور ذاتی عزائم نہیں ہیں۔ جبکہ عمران نے کرکٹ ورلڈکپ کے بعد کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھی تو اس کے ارادوں میں حکمرانی لرز رہی تھی۔ وہ یوں بھی ایک حکمران کا دل لے کے پیدا ہوا ہے۔ جبکہ خدمت خلق کے لئے حکومت کے ساتھ محبت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ وہ ایک تھینک لیس آدمی ہے۔
ڈاکٹر شہریار کی خوش قسمتی کہ ہماری بہت نامور ادیبہ فرحت پروین نے ان کو جائن کر لیا ہے۔ وہ کینسر ہسپتال کی ڈائریکٹر آف آرٹ اینڈ کلچر ہیں۔ ڈاکٹر شہریار بھی تخلیقی آدمی ہیں۔ بہت اچھی گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اہل قلم دوستوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے نامور شاعر اور بہت دوست خالد احمد کے لئے جس دردمندی کا ثبوت دیا۔ ہم اُن کے شکر گزار ہیں۔ ہم انہیں مانتے ہیں مگر فرحت پروین کی وجہ سے پوری تخلیقی برادری کا ایک رشتہ اُن سے قائم ہو گیا ہے۔ فرحت پروین کو بہت اچھے دل والے شاعر اعجاز رضوی کی رفاقت حاصل ہو گئی ہے۔ ہم سب ان محفلوں میں گئے جو کینسر ہسپتال کے لئے بلائی گئی تھیں۔ ڈاکٹر شہریار کی تقریر میں معلومات کے ساتھ محسوسات بھی ہوتے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر شوکت خانم ہسپتال موت کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے لوگوں کی امیدوں پر پورا اترتا تو ڈاکٹر شہریار لوگوں کی توجہ کا مرکز کیوں بنتا۔ بے تحاشا فنڈز جمع ہونے کے باوجود لوگوں کو شوکت خانم سے وہ سہولتیں نہیں ملتیں جن کے لئے ان کا دل تڑپتا ہے۔ یہاں جتنے مریض آتے ہیں انہوں نے کچھ نہ کچھ شوکت خانم ہسپتال کے لئے دیا ہے۔ میرے خیال میں جس شخص نے سو روپے بھی دئیے ہیں۔ اس کا بھق حق ہے کہ وہ شوکت خانم کینسر ہسپتال کو اپنا ہسپتال سمجھنے میں حق بجانب ہے۔ مجھے کئی لوگوں کی طرف سے کئی بار بڑی افسوسناک شکایات ملیں مگر میں چُپ رہا۔ مجھے میرے بہت شاندار اور اچھے ہمسائے ڈی فائیو وحدت کالونی کے عبدالشکور نہیں بھولتے۔ وہ ابھی دو تین سال نہ مرتے مگر انہیں شوکت خانم کے ڈاکٹروں نے موت کا خوف دلا کے بے بس کر دیا۔ مجھے بھابھی مسز عبدالشکور نے بتایا کہ شوکت خانم کے ڈاکٹر اطہر کاظمی نے شکور صاحب کو کہا آپ چند دنوں کے مہمان ہیں۔ گھر جاﺅ اپنے بچوں کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزارو اور ہنسی خوشی مر جاﺅ۔ شکور صاحب اپنے پاﺅں پر چل کر ہسپتال پہنچے تھے۔ اتنے گھبرائے کہ سٹریچر پر سروسز ہسپتال آ گئے۔ انہیں شوکت خانم میں صرف پین کلر دئیے جاتے رہے۔ ڈاکٹر کا کام یہ نہیں کہ وہ مرتے ہوئے مریض کو بھی اس طرح کہے۔ ڈاکٹر ہارون کا رویہ بھی اچھا نہ تھا۔ ڈاکٹر فیصل سلطان سے میری بات ہوئی وہ اچھی طرح بات کرتے رہے۔ خواجہ نذیر نے بھی تسلی دلائی مگر اب مریض خود اپنے ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔
شہباز شریف بھی ڈاکٹر توقیر شاہ کے ساتھ اپنے بہترین صلاحیتوں والے ساتھی کو دیکھنے سروسز گئے مگر اب وقت کسی کے قابو میں نہ تھا۔ میں بھی شکور صاحب سے ملا۔ اُن کی آنکھوں میں کہیں اور چلے جانے کی خبریں اڑ رہی تھیں۔ اب عمران خان کی سیاست اور وزیراعظم بننے کی خواہش نے شوکت خانم کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میں نے خود اس ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لئے کئی شہروں کا سفر کیا۔ سول سوسائٹی کے سب خواتین و حضرات نے اس ہسپتال کے لئے دل سے سوچا اور جو ہو سکا کر دیا۔ محبوب فنکار دلدادار بھٹی امریکہ میں شوکت خانم کے لئے جھولی پھیلاتے ہوئے مر گیا۔ عمران نے کبھی اُسے یاد نہیں کیا۔ سب فنکاروں ادیبوں شاعروں تاجروں عورتوں بچوں بوڑھوں نے اس ہسپتال کے لئے کیا جو وہ پاکستان کے لئے کرنا چاہتے ہیں۔ سیاستدانوں نے جو پاکستان کا حال کیا ہے۔ کینسر ہسپتال کا بھی اب پاکستان والا حال ہوتا جا رہا ہے۔ عمران سیاستدان بن گیا ہے۔
برادرم اعجاز رضوی ڈاکٹر شہریار کے ہسپتال کے سارے منصوبے کا احوال لے کے میرے پاس آیا۔ میں نے ایک محفل میں ڈاکٹر شہریار کی باتیں سنیں۔ فرحت پروین نے سب دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر عریشہ زمان، ڈاکٹر شاہینہ آصف، ڈاکٹر نازش نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر شہریار سمجھتے ہیں کہ اب پاکستان میں تین لاکھ افراد کینسر کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں کینسر کے لئے ریسرچ کی ضرورت بھی ہے اور یہ عالمی معیار کے مطابق ہونی چاہئے۔ مقامی حالات کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ فرحت پروین کے لئے خاص طور پر اعجاز رضوی کے لئے عام طور پر ممنون ہیں کہ وہ اہل قلم کو بھی متوجہ کر رہے ہیں۔ اس طرح اہل قلم کا اہل دل بننے کا قوی امکان ہے۔
جب شوکت خانم میں عمران کی عیادت کے لئے نوازشریف پہنچے تو انہوں نے کہا کہ آپ خوراک کا بھی خاص خیال رکھیں۔ کیا آپ کو ڈاکٹر نے شیر کے تکے بنا کے کھانے کا مشورہ نہیں دیا۔ اس دوران اخبارات میں یہ رپورٹ بھی شائع ہوئی ہے کہ اب امریکہ سے عمران کو فنڈز ملنا بند ہو جائیں گے۔ وہاں فوزیہ قصوری کے بعد ڈاکٹر نصراللہ عمران کے لئے سب سے زیادہ خلوص کے ساتھ وابستہ تھے۔ انہوں نے جب ساتھیوں کے کہنے پر لاکھوں ڈالروں کا حساب کتاب کے لئے عمران سے پوچھا کہ پارٹی مافیا اور خودغرض لوگوں نے اس میں الجھاﺅ پیدا کر دیا ہے تو عمران نے اُسے بری طرح ڈانٹ دیا اور کہا کہ اس معاملے میں اپنی بکواس بند کرو۔ یہ جملہ 29 جولائی کی ای میل پیغام میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح کی باتیں گلوکار ابرارالحق کے حوالے سے بھی سامنے آئی ہیں۔ اس نے بھی اپنی ماں صغریٰ شفیع کے نام سے نارووال میں ہسپتال کے لئے یورپ سے فنڈز ریزنگ کی۔ وہ نارووال سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ن لیگ کے احسن اقبال سے بُری طرح الیکشن ہار گیا ہے۔ میری گزارش ڈاکٹر شہریار سے ہے کہ وہ غریب مریضوں کے لئے ہسپتال بنائے اور اس کے بعد اپنی سیاسی پارٹی نہ بنائے۔ عمران اب پشاور میں کینسر ہسپتال بنا رہا ہے مگر اس نے اپنے آبائی شہر میانوالی میں میرے بار بار کہنے کے باوجود ایک چھوٹا سا ہسپتال بھی نہیں بنوایا۔ میانوالی میں غریب خواتین و حضرات راستوں میں مر جاتے ہیں۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/21-Aug-2013/233525

After cold response from K-P, residents of Chitral seek Punjab’s help

After cold response from K-P, residents of Chitral seek Punjab’s help

CHITRAL:  Flood-affected people in Chitral on Saturday demanded relief from the Punjab government after the Khyber-Pakhtunkhwa government failed to provide any assistance in the district.
Addressing journalists at the Chitral Press Club, Advocate Ghulam Hazrat Inqilabi, Muhammad Ubair, Shakiruddin and Muhammad Wali said residents are spending their days under the open sky, but the district administration has yet to take any measures to help them.
“Nothing has been done to clear the roads or to prevent the situation from deteriorating further,” said Inqilabi. He added they will migrate from the area and hold protests outside parliament if their demands are not met.
“We are frustrated by the utter lack of interest from the provincial government and have sought Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif’s help,” said Wali. He added they have presented their demands for relief to District Disaster Management Authority Chairman Muhammad Shoaib Jadoon and other officials, but they have not replied.

Wali said the cold response from local officials have further compounded their miseries, adding they are already disconnected from Chitral city because the road linking it to Bumburet in Kalash Valley was washed away by floodwater on July 31.
Prices of daily items have also shot up due to a shortage of edibles in the market.
Published in The Express Tribune, August 18th, 2013.

Blogroll