Showing posts with label Ayla Malik. Show all posts
Showing posts with label Ayla Malik. Show all posts

Anthing thats against Imran is a SHIT. Shitty dictatorship

ECP pushed the lever of FLUSH to clean the shitty petition by PTI !!

NA-71 by-election: ECP dismisses PTI's claim of rigging in Mianwali



LAHORE: The Election Commission of Pakistan (ECP) dismissed Pakistan Tehreek-e-Insaf’s (PTI) claim that the by-election held in NA-71 Mianwali was rigged, Express News reported on Tuesday.
Last month, PTI had filed a petition with the ECP challenging the victory of Pakistan Muslim League-Nawaz’s (PML-N) Obaidullah Shadi Khel with claims of rigging in NA-71.
Obaidullah had won with 69,799 votes while Malik Waheed managed to attract 56,504.
PTI had accused the federal and Punjab governments of committing vote fraud in the constituency, submitting video recordings of allegedly rigged polling at different stations as evidence.
They had also claimed that their original candidate for NA-71 Ayla Malik, was kept out of the race through connivance with the Rawalpindi Board of Education, which raised objections to her degree.
Accusing the returning officer (RO) from NA-71, provincial government officials, ministers and members of provincial and the National Assembly of being complicit in the act, the PTI petition stated:
“The ECP should call upon inspection of record including ballot papers of by-elections besides getting the voters’ thumb impressions verified by NADRA.”
The ECP dismissed the rigging claims and while hearing another case regarding alleged rigging in NA-122, called in the PTI Chairman Imran Khan for recording a statement on November 12.


http://tribune.com.pk/story/620881/na-71-by-election-ecp-dismisses-ptis-claim-of-rigging-in-mianwali/

Ajmal Niazi nay aik baar phir BAKWAS KHAN ko dho daala

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی


علامہ اقبال کے ایک زندہ جاوید شعر کا مصرعہ ہے۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتیں بہت ہیں۔ ہمیں نوجوان لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہئے کہ شعر کے دوسرے مصرعے پر بھی غور کریں اور پیروں کا احترام کریں۔ ان سے رہنمائی لیں اور پھر رہنمائی کریں۔ قیادت سیاست اور خدمت بھی ہے جب نواز شریف اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنے تو وہ نوجوان تھے۔ آدمی جتنا بھی بزرگ ہو جائے وہ اپنے آپ کو نوجوان سمجھتا ہے۔ اس فہرست میں ہم بھی شامل ہیں۔ جب سے حفیظ جالندھری کا یہ نغمہ باوقار گلوکارہ طاہرہ سید نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر گایا۔
ابھی تو میں جوان ہوں
لوگ کبھی طاہرہ سید کو دیکھتے اور کبھی شاندار بوڑھی ملکہ پکھراج کو دیکھتے۔ کہتے ہیں کہ دل جوان ہونا چاہئے۔ ہم نے یہ بات اپنے دل کو بڑی دفعہ سمجھائی ہے۔ وہ مانتا ہی نہیں مگر اپنے طور پر جوان ہی رہتا ہے۔
میں نے مصرعہ ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو کے دوران پڑھا تھا۔ جب میں نوجوان سیاستدان حمزہ شہباز سے بات چیت کر رہا تھا۔ یقین مانئے کہ مجھے بڑا مزہ آیا۔ جن خواتین و حضرات نے یہ انٹرویو دیکھا۔ وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ اس سے پہلے حمزہ سے میری بات نہیں ہوئی تھی۔ انہیں نجانے کس نے بلایا تھا۔ مگر ٹی وی کی دوست انتظامیہ نے مجھے حمزہ سے گفتگو کرنے کے لئے کہا تب میں بھی اتنا بوڑھا نہ تھا مگر اتنا نوجوان بھی نہ تھا۔ نجانے جوان اور نوجوان میں کیا فرق ہے؟ حمزہ صاحب‘ شہباز شریف کے صاحبزادے ہیں۔ شہباز شریف اپنی انتظامی صلاحیتوں اور اپنے منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے بہت معروف ہیں۔ حمزہ شہباز اپنے والد محترم کی بہت سی باتوں کو اپنی سرگرمیوں میں یاد رکھتے ہیں۔ وقار اور انکسار کے امتزاج سے اپنا مزاج بنا لیا جائے تو اس کا فائدہ عام لوگوں کو بھی ہو گا اور خود انہیں بھی ہو گا۔ میرے خیال میں رتبے اور عاجزی کو رلا ملا دیا جائے تو اس کے نتائج بہت خوبصورت نکلیں گے۔ تب حمزہ شہباز کے ساتھ ایک نوجوان اشفاق بھی تھا۔ وہ لنگڑا کے چلتا ہے مگر اس کی آنکھوں میں دیکھ کے لگتا ہے کہ وہ اپنی منزل پر ضرور پہنچے گا شاید وہ میرا سٹوڈنٹ بھی رہا ہے۔ وہ حمزہ شہباز کے ساتھ چلنا چاہتا ہے مگر ابھی مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی منزل کیا ہے۔ اس کی منزل وہی ہو، جو ہماری سب کی منزل ہے۔ اس کی آنکھوں میں روشنی ہے اور حمزہ شہباز کے لئے پیار ہے یہ دونوں کیفیتیں مل جائیں تو بات بن جائے گی۔ مگر ہم باتیں بہت بناتے ہیں بات نہیں بناتے۔ ہماری بات تب بنے گی۔ میں نے حمزہ شہباز کے لئے تنقیدی باتیں بھی کی ہیں۔ سچی تنقید کرنے والے کو جائز تعریف کرنا بھی آنا چاہئے۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ اختلاف کرنے کا حق اسے ہے جو اعتراف کرنا بھی جانتا ہو۔ ہمارے اپنے لیڈر کی خرابیاں بھی خوبیاں ہیں اور مخالف لیڈر کی خوبیاں بھی خرائیاں ہیں تعریف سننے والے میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہئے۔ حضرت عمر خطابؓ نے فرمایا کہ میرا دوست وہ ہے جو مجھے میری غلطیوں سے آگاہ کرے۔ جب غلطیوں کا انکشاف کوئی نوجوان کرے تو بات سننے میں توجہ اور حوصلہ کرنا چاہئے۔
میں حمزہ شہباز کے لئے خوش ہوا کہ عمران خان کے مقابلے میں میانوالی میں مسلم لیگ ن کے عبیداللہ خان شادی خیل کی جیت کو ممکن بنا کے واپس لاہور آئے۔ یہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست تھی۔ یہاں سے عمران کی طرف سے عائلہ ملک اپنی امیدواری بھی نہ بچا سکی۔ عدالت سے نااہل ہو گئی۔ پھر اس کے سمدھی اور کزن ایک غیر معروف شخص وحید ملک کو امیدوار بنا دیا گیا۔ لوگ وحید ملک کو جانتے ہی نہ تھے۔ انہوں نے تو عمران خان کو شکست دی۔ عمران نے گھر کی سیٹ چھوڑی۔ گھر والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ ویسے عمران خود بھی اپنے آپ کو ہروانے کے لئے کافی تھے مگر حمزہ شہباز کی ولولہ انگیز تقریر ووٹ دیتے وقت لوگوں کو یاد رہی یہ تقریر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبیداللہ خان شادی خیل کی کامیابی کا سبب بنی۔ عبیداللہ خاں خود بھی میانوالی کے بڑے سینئر سیاستدان ہیں۔ وہ عمران خان کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔ اب بھی اس کے مقابلے میں عمران خان تھے۔ عمران اس حوالے سے بالکل خیال نہیں کریں گے کہ انہوں نے اپنا بہت بڑا نقصان کر لیا ہے۔ اب جس مقام پر عمران خان ہیں۔ وہ میانوالی کے غریبوں نوجوانوں غیرت مند سپوتوں نے دیا ہوا ہے۔
میری گزارش عبیداللہ خان شادی خیل سے ہے کہ وہ میانوالی کو شادباد کر دے۔ وہ ایک نیا عبیداللہ خاں بن کر سامنے آئے۔ اب وہ ایک نظر آنے والی تبدیلی کے ساتھ نظر آئے۔ ترقیاتی کام ہونا چاہیں۔ اس ضمن میں حمزہ شہباز بھی خصوصی توجہ کریں کہ اب میانوالی کا ان پر بھی حق ہے۔ عمران خان یہ فیصلہ کرے کہ وہ میانوالی سے کبھی الیکشن نہیں لڑے گا۔ میانوالی میں عمران نے نمل یونیورسٹی بنائی۔ میں اس کے خلاف نہیں ہوں مگر عمران کو سکولوں اور فنی تعلیمی اداروں کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔ میں اس کی منت کرتا رہا کہ ایک چھوٹا موٹا ہسپتال میانوالی میں بنا دو مگر وعدے کے باوجود وہ کامیاب نہ ہوئے۔ میرے کالم اس بات کے گواہ ہیں۔ میں نے اس کالم کا آغاز کیا تھا کہ میں حمزہ کے علاوہ بھی کچھ نوجوانوں کا ذکر کرنا چاہتا تھا۔ اب یہ تفصیل کسی اگلے کالم میں ہو گی۔ مجھے مریم نواز کا انداز سیاست پسند ہے۔ انہوں نے کئی بار بے نظیر بھٹو کی تعریف کی بلکہ انہیں آئیڈیل کے طور پر نمایاں کیا۔ کیا بے نظیر بھٹو بننا ان کی منزل ہے۔ انہوں نے اپنے والد نواز شریف کے لئے بھی بہت جذبے سے بات کی ہے۔ میاں نواز شریف کے لئے ایسی باتیں حمزہ شہباز بھی کرتا ہے۔ اپنے والد شہباز شریف کا عکس اس کی شخصیت میں جھلکتا ہے۔ وہ بات کرتے ہوئے بار بار ”اپنا“ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ کوئی اپنائیت جو اس کے پاس ہے وہ عوامی سطح تک جانا چاہئے۔ جب ہر طرح کی غیریت ہمارے طرز عمل اور طرز سیاست میں ختم ہو گی تو خیر ہو جائے گی۔ اس کے لئے پاکستان کے لوگوں کی ہر طرح کی تنگ نظری کو ختم کرنا ہو گا۔
مجھے فاطمہ بھٹو کی تحریریں یاد آرہی ہیں وہ ایک گمشدہ شہزادی ہے اور لوگ اسے ملکہ بنانا چاہتے ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری‘ آصف زرداری کے ساتھ بہت نظر آتی ہے۔ لگتا ہے آصف صاحب اپنی اس پیاری بیٹی آصفہ میں اپنا کوئی عکس دیکھتے ہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ خاندانوں کے تسلسل میں گھومتی رہتی ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی ایسا ہی ہے۔ سیاست کے ساتھ صحافت کے میدان میں یہی منظرنامہ نظر آتا ہے اور اچھا لگتا ہے۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/Lahore/2013-09-16/page-3/detail-32

تحریک انصاف میں موروثی سیاست اور عمرانی نظریہ

 تحریک انصاف میں موروثی سیاست اور عمرانی نظریہ



ضمنی الیکشن میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے اپنے داماد کو ٹکٹ دلوایا ہے۔ سپیکر سرحد اسمبلی اسد قیصر نے اپنے بھائی کو اور عائلہ ملک نے اپنے سمدھی کو عمران خان سے ٹکٹ دلوایا ہے۔ موروثی سیاست کا الزام پیپلز پارٹی‘ ن لیگ اور ق لیگ پرکیوں ہے؟ اسد عمر بھی جنرل عمر کا بیٹا ہے اور اس نے بنگلہ دیش بنوایا تھا۔ ان کے لئے عمران ووٹ مانگ رہا ہے اور کہتا ہے کہ نظریے کو ووٹ دو۔ ان تینوں چاروں کے نظریات مختلف ہیں ہم نظریہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نظریہ پاکستان یعنی دو قومی نظریہ ہوتا ہے۔ تحریک انصاف والوں کو معلوم ہے کہ نظریہ پاکستان کیا ہے؟ انہیں عمرانی نظریے کا بھی پتہ نہیں؟ ضمنی نتائج حکومت والوں کی مرضی سے مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہی انتخابی رواج ہے۔ عمران خان کا نظریہ ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا کی ٹکٹوں کے لئے مسلم لیگ ن کی طرف سے عمران کے لئے راہ ہموار کی گئی اور پرویز خٹک نے کہا کہ شہباز شریف میرے لئے رول ماڈل ہیں۔ شاید اسی لئے عمران خان کہتے ہیں کہ میں خود پشاور میں بیٹھوں گا۔ خیبر پختونخوا کے لئے وزیراعظم عمران خان ہوںگے۔ کیا خیبر پختونخوا میں دھاندلی نہیں ہو گی؟
مجھے تو لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت تحریک انصاف یعنی عمران خان کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے۔ حکومت تو ہر کہیں ریت کی طرح ہوتی ہے۔ عمران کے نوجوان کہتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے دن بھی تھوڑے ہیں مگر عمران نے اپنے پیچھے مولانا فضل الرحمن کو لگا لیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نواز شریف اور چودھری نثار کی سیاست ہے۔ ضمنی انتخاب کے بعد کیا ہو گا۔ عمران کے لئے اس بات پر غور فرمائیں کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر ن لیگ کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ کیونکہ ضمنی الیکشن میں بھی شکست صاف نظر آرہی ہے بلکہ تحریک انصاف میں شکست و ریخت مسلسل ہو رہی ہے۔ ایک بات بہت واضح ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی دیرینہ خواہش ہے اور بہت دیر ہو گئی ہے۔ وزیراعظم بننے کی خواہش تو ڈاکٹر طاہر القادری کی بھی ہے۔ دونوں کو جنرل مشرف نے دھوکہ دیا۔ جسے وزیراعظم بننا تھا۔ اس نے انتظار کیا اور صبر کیا۔ ہمارے سیاستدانوں میں صبر اور انتظار کی عادت نہیں ہے۔ امارت کی طرح وزارت کے بارے میں بھی خیال ہے کہ صبح آنکھ کھلے تو ہم امیر کبیر ہو جائیں اور وزیراعظم بن جائیں۔ نواز شریف کی سیاست کامیاب رہی۔ انہوں نے شاہی اپوزیشن کی اور پھر فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ سنا اور وزیراعظم بن گئے۔
مولانا پر عمران خان نے الزام لگایا کہ انہوں نے امریکی سفیر سے کہا کہ مجھے وزیراعظم بنا دو اور پھر جو چاہے کرو اور کرا لو۔ عمران کے بارے میں مولانا کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر سے عمران خان نے کہا کہ مجھے وزیراعظم بنا¶۔ طالبان کے ساتھ صرف میں معاملات طے کروا سکتا ہوں۔ مجھے طالبان خان بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے لانگ مارچ بھی کیا۔ مگر کوئک مارچ نہ ہوا۔ نجانے یہ پلاننگ طالبان کے حق میں تھی امریکہ کے حق میں یا اپنے حق میں تھی ناحق اور حق میں فرق ہوتا ہے۔ جو ہمارے بے چہرے حکمرانوں کو معلوم نہیں ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن کے بھی طالبان سے بہت تعلقات ہیں مگر قرعہ فال نواز شریف کے حصے میں نکلا۔ اب فال نکالنے والے ان سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ سنا ہے اس کے بعد باری عمران خان کی ہے شاید خیبر پختونخوا میں باری مولانا صاحب کی نکل آئے۔ وہ مرکز میں حکومت کی بجائے اپوزیشن لیڈری کے لئے کوشش کریں گے۔ کہتے ہیں اپوزیشن میں بھی پوزیشن بہت ہوتی ہے۔ عمران اپوزیشن میں بھی حکمرانی کا قائل ہے بلکہ گھائل ہے۔
عمران کو جائن کرنے والے بھی کئی دفعہ وزیر شذیر رہ چکے ہیں۔ عمران بھی انہی کو وزیر شذیر بنائے گا۔ مزید ٹھیک ہے مگر تجربہ ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جو سیاستدان حکومتی جرائم اور کرپشن سے توبہ کرتا ہے اس کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی۔ وہ تحریک انصاف جائن کرکے عمران کے پہلو میں بیٹھ جاتا ہے۔ بڑی دیر سے کھانے پینے میں مصروف شخص سے پوچھا گیا کہ رج گئے ہو اس نے ہاتھ اور منہ صاف کئے بغیر کہا تھک گیا ہوں۔ کئی سیاستدان حکمران اور افسران ابھی تھکے نہیں ہیں۔ لگے ہوئے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ تحریک انصاف کا آئین کیا ہے۔ جواب ملا یہ تو پتہ نہیں۔ اتنا پتہ ہے کہ عمران کا آئینہ عائلہ ملک ہے۔ عمران کہتا ہے کہ نظریے کو ووٹ دو۔ میانوالی سے وحید ملک کو عائلہ ملک کا چہرہ مبارک دیکھ کر ووٹ دو یہ کوالی فکیشن کیا کم ہے کہ وحید ملک عائلہ ملک کا سمدھی ہے۔
پشاور میں غلام احمد بلور پھر مقابلے میں آگیا ہے۔ اب انہیں مولانا کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ یہ بلور کی حمایت نہیں ہے عمران کی مخالفت ہے بغض معاویہ یہی ہوتا ہے۔ عمران خان اپنی جیتی ہوئی سیٹ ہار گیا تو کیا ہو گا۔ وہ زیادہ خوش ہو گا کہ اب میرے وزیراعظم بننے کا چانس پکا ہے؟ پنجاب کے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کے بیٹے کے جنازے میں عمران کے بہنوئی اور چچازاد بھائی حفیظ اللہ خان نے اس کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ یہ کیا وقت آگیا ہے عمران رشتوں اور رابطوں میں اتنا فرعون کیوں ہے۔ حفیظ اللہ خاں بھی کم نہیں ہے۔ اس کا بھائی ہے۔ جب شوکت خانم میں پیٹ درد کے حوالے سے عمران داخل ہوا تو اس کے محسن بھائی حفیظ اللہ خان نے مجھے کہا کہ تم ایک کالم عمران خان کے لئے لکھو۔ ایک جملہ عمران خان کو چبھ گیا۔ عمران میرا دوست ہے نہ میرا لیڈر ہے مگر میرا بھائی تو ہے۔ اب محسوس ہوا ہے کہ وہ بھائی بھی نہیں ہے۔ پہلے میانوالی کے غیرت مندوں نے بھائی سمجھ کر عمران کو ووٹ دئیے تھے۔ کیا اب عائلہ ملک کو اپنی بہن سمجھ کے ووٹ دیں گے۔ تحریک انصاف کے ایک سچے اور بہادر کارکن جمشید امام کا شعر ہے
میں اپنی ماں کے قدموں کا فقط بوسہ لیتا ہوں
دوا کے واسطے میری جیبوں میں اکثر کچھ نہیں ہوتا

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/20-Aug-2013/233244

میانوالی کی لیڈر عائلہ ملک یا عائلہ لغاری

میانوالی کی لیڈر عائلہ ملک یا عائلہ لغاری
کالم نگار | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی 

عمران خان تین انتخابی حلقوں سے جیت گئے۔ مگر ایاز صادق نے انہیں بُری طرح شکست دی۔ ایاز صادق کو امید نہ تھی مگر مجھے امید تھی۔ یہ کامیابی شریف برادران کو پسند آئی اور ایاز صادق سپیکر قومی اسمبلی بن گئے۔ عمران خان سے ایاز صادق نے حلف لیا۔ وہ اتنے خوش ہوئے کہ چودھری نثار سے جپھی ڈال لی۔ سیاسی سنگدلی دیکھیں کہ یہ بات جاوید ہاشمی کے ایک سیاسی بیان سے بڑا جرم تھا مگر غیرت مند تحریکی جوانوں میں سے کسی نے عمران سے معافی کا مطالبہ نہ کیا جبکہ انہیں معافی مانگنے کا وسیع تجربہ ہے اسی نسبت سے غلطیاں کرنے کی بڑی عادت ہے۔ میں نے تب کہا تھا کہ کسی امیدوار کو صرف ایک حلقے سے الیکشن لڑنے کی اجازت ہونا چاہئے۔ یہ ہوتا تو عمران خان صرف میانوالی سے الیکشن لڑتا۔ مگر کس قدر بے وفائی اور مفاد پرستی ہے کہ عمران نے میانوالی کی نشست چھوڑ دی ہے۔ پشاور میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور یہ سیٹ بھی چھوڑ دی گئی ہے شاید تحریک انصاف کا آدمی پشاور سے تو جیت جائے مگر میانوالی سے جعلی ڈگری پر نااہل ہونے والی عائلہ ملک کے غیر معروف غیر سیاسی سمدھی وحید ملک کی جیت ناممکن ہے؟ اس بات پر عمران کو میانوالی کے غیرت مند لوگوں سے معافی مانگنا چاہئے۔ عائلہ ملک عمران خان کی بہت قریبی ساتھی ہے اور اُسے معلوم نہ ہو سکا کہ اس کے پاس ایف اے کی سند بھی جعلی ہے۔ عائلہ ملک کی جعل سازیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ شکر ہے کہ وہ الیکشن سے پہلے ہی نااہل ہو گئی ہے۔ اس کا جیتنا مشکل تھا مگر شاید میانوالی کے لوگ عمران کی محبت میں اندھے بہرے ہو کر عائلہ کو اپنا لیڈر بنا لیتے تو یہ داغ میانوالی کی سیاسی پیشانی سے کبھی دور نہ ہوتا۔ میں عورتوں کے لئے بہت کشادہ دل ہوں۔ ہر طرح اُن کا حامی ہوں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں عورتوں نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ سیاست میں اور صحافت میں ان کا بہت نام ہے۔ مگر میانوالی کا ایک کلچر ہے اور ہمیں اس کا احساس کرنا چاہئے۔ میانوالی سے محترمہ ذکیہ شاہنواز ن لیگ سے مخصوص نشستوں پر ممبر پنجاب اسمبلی ہیں۔ اپنے وقار اور اعتبار کی وجہ سے بہت احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہیں۔ وہ ن لیگ کے امیدوار شادی خیل کی بہت سپورٹ کر رہی ہیں۔ وہ آجکل صوبائی وزیر ہیں۔ وہ بہت قابل ہیں اور اہل ہیں جبکہ ٹیکسلا سے غلام سرور خان چودھری نثار کو ہرا کر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم این اے ہوئے مگر جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے۔ تحریک انصاف نے ان کی بنیادی رکنیت معطل کر دی۔ مگر عائلہ ملک کو عمران خان نے داﺅد خیل میں دلیر کہا۔ وہ جعلی ڈگری پر جنرل مشرف کی ہدایت کے مطابق ق لیگ کے ٹکٹ پر پانچ سال تک ایم این اے بنی رہیں۔ وہ نواب کالاباغ ملک امیر محمد خان کی پوتی ہے وہ بہادر اور غیرت مند انسان تھے۔ عائلہ اور سمیرا کو اُن کے ماموں صدر فاروق لغاری سیاست میں لے کے آئے تھے۔ میں نے لکھا تھا کہ اب وہ اپنے نام کے ساتھ لغاری لکھا کریں۔ عائلہ لغاری اور سمیرا لغاری۔ سمیرا ن لیگ میں ہیں۔ اسی زمانے میں عائلہ بلوچ سیاستدان اور وزیر رند صاحب کی بیوی بن گئیں۔ انہوں نے عائلہ ملک کو گھر سے ہی نکلنے نہ دیا۔ عمران خان نے میانوالی میں کسی بہتر امیدوار کی بجائے عائلہ ملک کے سمدھی وحید ملک کو ٹکٹ دیا ہے جو عائلہ کا چچا زاد ہے اور مظفر ملک کا بیٹا ہے چند ماہ پہلے عائلہ ملک کی بیٹی کی شادی وحید ملک کے بیٹے کے ساتھ ہوئی ہے۔ سنا ہے کہ مظفر ملک کے بھائی اسد ملک نے وحید ملک اور عائلہ ملک کی مخالفت کا اعلان کر دیا ہے۔ میانوالی سے اطلاعات آئی ہیں کہ وہاں ن لیگ کے امیدوار عبیداللہ خان شادی خیل کی پوزیشن بہت اچھی ہے۔ یہاں سے تحریک انصاف کی شکست بہت بڑی شکست ہو گی۔ میانوالی کے وفا حیا والے لوگوں سے عمران خاں نے بہت بڑا انتقام لیا ہے۔ بھٹو صاحب‘ بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف‘ شہباز شریف‘ جاوید ہاشمی کے علاوہ کسی نے اپنی آبائی گھریلو سیٹ نہیں چھوڑی تھی جب تحریک انصاف کو صرف ایک سیٹ ملی تھی۔ وہ میانوالی سے عمران خان کی سیٹ تھی۔
مجھے میانوالی سے کئی دوستوں نے کہا تو میں نے کہا تھا کہ عمران خان میانوالی کو نہ چھوڑیں۔ برادرم رفیع اللہ خان روکھڑی بہت جذباتی ہو گئے تھے۔ بعد میں عمران خان کے لئے اختلافی بات پر مجھ سے لڑ پڑے۔ اب ان کا کیا خیال ہے؟ قمرمثانی کے نوجوان ورکرز عمران کی گاڑی کے آگے کھڑے ہو گئے۔ ثناءاللہ خان نے کہا کہ یہ کیا تبدیلی آپ میانوالی میں لا رہے ہیں۔ آپ نے میانوالی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اب اپنی سیٹ پر ایک غیر نمائندہ اور غیر پسندیدہ آدمی کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ عمران نے کہا کہ آپ نظریے کو ووٹ دو۔ اس نے کہا آپ نے نظریے کو ٹکٹ دیا ہے؟ عائلہ ملک جیسے خواتین و حضرات کی خاطر عمران نے تن من دھن کی بازی لگا دی ہے۔
میانوالی کے لوگوں کا خیال تھا کہ نامور گلوکار عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ عطاءاللہ کو اللہ نے بہت عزت دی ہے مگر عمران بے شمار عزت کو سنبھال نہیں سکا جو اللہ نے اسے بخش دی ہے۔ شریف برادران کے لئے لوگ کہتے ہیں کہ وہ مغرور ہیں مگر اصل غرور تو عمران کی آنکھوں میں لکھا ہوا ہے۔
راولپنڈی کے لئے جاوید ہاشمی کی سیٹ پر بہت جنوئن اور جانثار ساتھی ڈاکٹر اسرار شاہ کی بجائے اپنے دوست اسد عمر کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا بھی بلند و بالا اور بہادر سیاستدان لگتا ہے۔ اسد عمر جنرل عمر کا بیٹا ہے جو مشرقی پاکستان توڑنے میں حصہ دار تھا۔ اسے بعد میں برطرف کر دیا گیا تھا۔ عمران نے ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر معافی مانگی ہے۔ اب دوسری شکست پر دوسری بار معافی مانگے گا۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/19-Aug-2013/233063

Bye ELECTIONS 2013 | Ayla MALIK barred due to fake degree

PTI's dream come true. The new prospected mother of PTI has been declared fraud by LHC rawalpindi bench and she can not take part as a candidate in bye elections. Express 30 july 2013

AYLA MALIK BANNED from contesting ELECTIONS... SHAMELESS PTI ab bolo

 


جعلی ڈگری کے باوجود عمران خان کی زاتی نامزد کردہ عائیلہ ملک کو لاہور ہائیکورٹ نے بائی الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دے دیا
بٹ صحیح کہتا ہے، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ہاہاہا
http://tribune.com.pk/story/582675/fake-degree-pti-ayla-malik-ineligible-to-contest-by-elections/
 

Fake degree: PTI candidate for Mianwali ‘home seat’ faces by-poll ban

Fake degree: PTI candidate for Mianwali ‘home seat’ faces by-poll ban




ISLAMABAD: Pakistan Tehrik-i-Insaf (PTI) chief Imran Khan's choice for NA-71 faces a certain by-election ban after the Election Commission and the Rawalpindi Education Board raised doubts over her high school degree.
Ayla Malik was scheduled to run in the by-elections on Imran’s home seat in Mianwali, NA-71, after Imran vacated the seat to keep his Rawalpindi seat.
Malik, who is the niece of former President Farooq Leghari, was scheduled to run for by-elections in Mianwali but her candidacy was challenged by political opponent Obaidullah Shadikhel of Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N).
On Saturday, the election tribunal of the Lahore High Court’s Rawalpindi heard the arguments of Shadikhel’s counsel. He argued that Malik should be barred from contesting elections.
Rawalpindi Education Board and Election Commission also filed their replies before the tribunal, claiming that Malik was awarded no degree by the Rawalpindi Board. A Board reply stated that the degree submitted by Malik before the Election Commission was found to be of another candidate, Imdad Hussain, who had failed his intermediate examination.
The Election Tribunal reserved its ruling for July 29.
Malik comes from a long line of politicians. Besides her relation to the former president, she is the granddaughter of Nawab Malik Amir Muhammad Khan, otherwise known as the Nawab of Kalabagh. Her sister, Sumaira Malik, is an MNA for the PML-N. Earlier, Ayla Malik served as an MNA on a reserved seat from 2002-2007.
The issue of fake degrees took centre stage in Pakistani politics in recent months, after the superior courts took up several petitions against the dubious credential of parliamentarians and election candidates.
In April this year, Election Commission penalised three senators, five Punjab Assembly MPAs, two Sindh MPAs and one Balochistan MPA for holding fake degrees. . Earlier this week the Supreme Court disqualified a Pakistan Muslim League-Quaid (PML-Q) lawmaker from Punjab Assembly, Samina Khawar Hayat, for a fake degree.
An independent MNA from Muzaffargarh, Jamshed Dasti had made headlines when he was disqualified for his fake degree – but managed to win his seat in the general elections this year after getting his ban overturned just in time from the Lahore High Court’s Multan bench.

NEW MOTHER of #PTI AYLA MALIK has fake BISE certificate



انقلبازیوں کی چھوٹی امی عا یلہ ملک کی دو نمبر ڈگری پر بھی تحریک انصاف کی با اصول قیادت خاموش 

اب بھابھی کے خلاف تو مزاری بول نہیں سکتی نا

http://e.jang.com.pk/07-20-2013/lahore/pic.asp?picname=1830.gif 

Blogroll