Showing posts with label Laltain. Show all posts
Showing posts with label Laltain. Show all posts

جناح ثانی کے 14 نکات

جناح ثانی کے 14 نکات
1. آئندہ انتخابات ہماری مرضی کے ہوں گے
2. ہمارے اُمیدواران کے مقابلے میں کوئی انتخاب نہیں لڑ سکے گا
3. مُلک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صُوبہ میں پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہو گی
4. مرکزی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو گی
5. انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو صرف ایک انتخابی نشان ـبلاـ دیا جائے گا
6. ہر شخص کو انتخابی مہم کے دوران رقص و سرود کی محافل سجانے کی قانونی آزادی ہو گی
7. مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہیں ہو گا جس سے پاکستان تحریک انصاف کے مفادات پر زد پڑتی ہو
8. پشاور کو ہانگ کانگ لکھا اور پُکارا جائے گا
9. خیبر پختونخواہ کیطرح ہر صوبے میں صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف کی حکُومت ہو گی
10. آئینِ پاکستان میں تبدیلی کر کے مُلک کا نیا نام اسلامی جمہوریہ نیا پاکستان رکھا جائے گا
11. تمام سرکاری،نیم سرکاری ، خُودمُختار اور نجی اداروں کے سربراہ عمران خان ہوں گے
12. تحریک طالبان کو بلا انتخاب تمام مجالس قانون ساز میں ایک تہائی نمائندگی دی جائے گی
13. بنی گالہ اور زمان پارک میں واقع گھروں کو قومی ورثہ قرار دیا جائے گا
14. مُلک میں پیدا ہونے والے تمام لڑکوں کا نام عمران خان رکھا جائے گا

مطالعہ نیا پاکستان لازمی

مطالعہ نیا پاکستان لازمی


nisab-nayapakistan
نیا پاکستان اگست 2014 میں قائد اعظم ثانی کپتان خان رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں قائم ہوا۔ نیا پاکستان اسی روز وجود میں آگیا تھا جس روز پرانے پاکستان نےپہلا ورلڈ کپ جیتا تھا۔قائد اعظم ثانی کپتان خان رحمتہ اللہ علیہ کی ان تھک محنت اور لگن کی وجہ سے پرانے پاکستان کے بلے برداروں کو شریف خاندان کی غلامی سے نجات ملی اور آج وہ آزادی سے ہر طرف انقلاب برپا کرتے پھرتے ہیں۔نئے پاکستان کا خواب حکیم البشارات علامہ طاہرالقادری نے دیکھا اور خطبہ ماڈل ٹاون میں پہلی بار نئے پاکستان کے قیام کا تصور دیا؛
“میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ماڈل ٹاون، زمان پارک اور خیبرپختونخواہ آزاد اور خود مختار اکائیوں کے طور پر شریف تسلط میں یا اس سے باہر ایک جداگانہ وجود قائم کر سکتے ہیں۔”
دوقومی نظریہ
پرانے پاکستان میں شروع ہی سے دو قومیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف بستی تھیں جن کے نعرے، مطالبات، رہنما، فیس بک اکاونٹ اور انتخابی نشان سب ایک دوسرے سے علیحدہ تھے۔ ایک گروہ جو مسلم لیگ (ن) میں شامل تھا اور شیر پر مہریں لگاتے تھے اور دوسرے تحریک انصاف کے نوجوان جو بلے سے شیر کا شکار کیا کرتے تھے۔مسلم لیگ (ن) نے اپنے اکثریتی ووٹوں اور نشستوں کی بنیاد پر تحریک انصاف کو غلام بنانے کی کوشش کی ، تاہم طالبان خان رحمتہ اللہ علیہ نے علامہ طاہر القادری کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور تحریک انصاف کو آزادی دلائی۔
تحریک مقاطعہ انتخابات
2007 میں وائسرائے پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے انتخابات کے دوران تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) نے مل کر انتخابات کے مقاطعہ کی تحریک چلائی ۔ نواز شریف نے تحریک انصاف کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے منع کیا اور جمع کرائی گئی نامزدگیاں واپس لیتے ہوئے انتخابات کا مقاطعہ کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد تحریک انصاف کے ہزاروں امیدوار اپنے کاغذات جمع کرائے بغیر انتخابات سے باہر ہو گئے۔
سانحہ ماڈل ٹاون
ماڈل ٹاون میں منہاج القرآن کے نہتے معصوم طالب علموں پر گولیاں چلا کر سینکڑوں معصوم طالب علموں، بچوں اور عورتوں کو شہید کر دیا گیا، جس کے بعد کنٹینر لگا کر پورے ماڈل ٹاون کو بند کر دیا گیا۔
مسلم لیگی وزارتیں
مسلم لیگ (ن) 2013 کے انتخابات میں تحریک پاکستان کودھاندلی سے شکست دے کر حکومت میں آئی،مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران تحریک انصاف کے کارکنوں کے جلسوں کے دوران حکومت ناچ گانے کے مفت پروگرام منعقد کرتی رہی جس سے انقلابی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو زبردستی ٹیکس اور بجلی کے بل دینے پر مجبور کیا جاتا رہا اور پٹرول پمپ بند کر کے انقلابی موٹرسائیکلوں کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم انقلابی نوجوانوں نے فیس بک پر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
انتخابات 2013 میں دھاندلی کے ثبوت
مفروض اے سازشی کی تحقیق کے مطابق انتخابی دھاندلی کے درج ذیل ثبوت سامنے آچکے ہیں:
1 ۔ انتخابات 2013 کے دوران پچیس کروڑ عید مبارک والے جعلی بیلٹ پیپر چھاپے گئے۔
2 ۔ اتفاق فاونڈری کی فولادی بھٹی میں ربڑ کی ایسی مہریں بنائی گئیں جن کے نشان صرف شیر والے ووٹوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔
3 ۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس ہر حلقہ میں پانچ سو ایسے گلو بٹ اور پانچ سو ایسے پومی بٹ تھے جن کے ہر ہاتھ میں انگلیوں کی بجائے پانچ پانچ انگوٹھے تھے، یہی وجہ ہے کہ انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔
4 ۔ جن حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدوار کھڑے نہیں ہوئے وہاں بیلٹ پیپرز پر تحریک انصاف کا انتخابی نشان “بلا” جان بوجھ کر نہیں چھاپا گیا، جس سے تحریک انصاف ڈیڑھ سے زائد حلقوں میں جیت نہیں سکی۔
5 ۔ دھاندلی کے اصل ذمہ دار بالی ووڈ کے ایجنٹ راحت فتح علی خان ہیں ، جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کا انتخابی ترانہ تحریک انصاف کے انتخابی گیت سے بہتر گایا ، انہیں اس کی کڑی سزا دی جانی چاہئے۔
6 ۔ انتخابات کے دوران جو مقناطیسی سیاہی استعمال کی گئی اس میں حمزہ شہباز کی نگرانی میں ایسے مقناطیسی ذرات استعمال کئے گئے جو شمالاً جنوباً کی بجائے شرقاً غرباً مقناطیسی میدان بناتے ہیں۔ (دیکھیے جنرل سائنس لازمی، باب ۳ ؛ نوازشریف کا مقناطیسی میدان)
دھاندلی کا طریقہ کار
ووٹوں کی گنتی کے دوران ٹھیک پانچ بج کر پندرہ منٹ پر پاکستان بھر میں تحریک انصاف کے تمام پولنگ ایجنٹ جب تین منٹ کے لئے پیشاب کرنے گئے تو ہر حلقہ کے گلو بٹ اور پومی بٹ نے تمام بیلٹ باکسز میں عید مبارک والے جعلی نوٹوں پر اتفاق فاونڈری میں تیار کی گئی مہروں سے جعلی مقناطیسی سیاہی کے نشانات لگا کر مسلم لیگ (ن) کو جتا دیا۔ پتہ چلانا چاہئے کہ پانچ بج کر پندرہ منٹ پر تحریک انصاف کے تمام پولنگ ایجنٹ اکٹھے پیشاب کرنے کیوں بھیج دیے گئے۔انتخابات کے دوران ایسے ریٹرننگ افسر تعینات کئے گئے جنہیں سو سے آگے گنتی نہیں آتی تھی، اس لئے انہوں نے اندازے سے ووٹ گنے بغیر نتائج لکھے۔
قراردادنیا پاکستان
نئے پاکستان کی قرارداد طاہرالقادری پارک جسے پہلے زمان پارک کہا جاتا تھا، میں منظور کی گئی۔ آج اس جگہ مینار نیا پاکستان قائم ہے اور حقیقی آزادی اور نئے پاکستان کی یاد دلارہا ہے۔قراردادشیرِ بغاوت جاوید ہاشمی نے پیش کی جس کی تائید شاہ محمود قریشی، محمود الرشید اور شفقت محمود نے کی۔
تحریک نیا پاکستان
تحریک نیا پاکستان کا آغاز ماڈل ٹاون اور زمان پارک سے دوپہر تین بجے ہوا جو 40 گھنٹے میں اسلام آباد پہنچی ۔ شریف حکم رانوں کے ظلم کی وجہ سے ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سات سو پچاس موٹر سائیکل پنکچر ہو گئے ۔ احتجاج سے خوفزدہ ہو کر حکومت نے دس لاکھ انقلابیوں میں سے نولاکھ پچاس ہزار گرفتار کر لئے جس کے باوجود اسلام آباد میں دس لاکھ میں سے نو لاکھ انقلابی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جن کا ساتھ دینے کو خیبر پختونخواہ سے ساٹھ ہزار انقلابی نیا پاکستان بنانے کو پہنچ گئے جس کے بعد انقلابی مجمع کی کل تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ انقلابی مارچ نے اسلام آباد میں دھرنا دیا جہاں قائد اعظم ثانی نے موسم کی سختیاں اپنے کارکنان کے ساتھ برداشت کیں اور بالآخر ریڈ زون میں داخل ہونے تک حکومتی ظلم کے باعث صرف پانچ ہزار کارکن پارلیمان کے سامنے پہنچ پائے۔
اسی دوران مفکر نیا پاکستان حکیم البشارات علامہ طاہر القادری کے انقلاب مارچ نے آزادی مارچ کے ساتھ جدوجہد کا آغاز کردیا جس سے شریف خاندان کی حکومت ختم کرنے اور نیا پاکستان بنانے میں مدد ملی۔
قائد اعظم ثانی نے پاکستان بننے سے پہلے پہلی انقلاب ساز اسمبلی سے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا؛
“آپ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہو، مسلم لیگ (ن)سے ہو،ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی یا کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، آپ آزاد ہیں کہ آپ تیر ،شیر، لالٹین، کتاب یا پتنگ کسی بھی نشان پر مہرلگانے یاکسی کے حق میں بھی ٹویٹ کریں ، ریاست کاسیاست اور انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔”
نیا پاکستان بنانے کے لئے دن رات کنٹینر پر سونے ،بارش میں بھیگنے اور مسلسل تقریریں کرنے کی وجہ قائد اعظم ثانی کپتان خان کی طبعیت ناساز رہنے لگی جس کی وجہ سے انہیں ڈاکٹروں کے مشورے سے بنی گالہ منتقل کر دیا گیا جہاں مادر ملت شیریں مزاری نے ان کی دیکھ بھال اور ان کے فیسبک ٹویٹر اکاونٹ پر کارکنان سے رابطے کا عمل جاری رکھا۔ طبعیت بہتر ہونے پر وہ اپنے آبائی علاقہ زمان پارک منتقل ہو گئے اور وفات پانے تک سیلفیز پوسٹ کرتے رہے ۔ ایک صبح طبعیت اچانک بگڑنے پر انہیں ایمبولینس کے ذریعہ شوکت خانم ہسپتال منتقل کرنے کے لئے لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں میٹرو بس کی گزرگاہ کے قریب عطااللہ عیسی خیلوی کی آواز میں نئے پاکستان کا قومی ترانہ “جب آئے گا کپتان خان بنے گا نیا پاکستان” سنتے ہوئے ایمبولینس خراب ہونے سے وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ کپتان خان کی آخری ٹویٹ “نیا پاکستان ۔انقلاب” تھی، ان کی نماز جنازہ مولانا طارق جمیل نے رائیونڈ میں ادا کی جس کے بعد قائد ملت شاہ محمود قریشی نے حکومت سنبھالی۔ آپ کا مزاراسلام آباد ڈی چوک پر کھڑے ایک کنٹینر میں ہے۔

اردو گرائمر برائے نیا پاکستان

اردو گرائمر برائے نیا پاکستان


nisab-nayapakistan1
پیش لفظ
چونکہ نیا پاکستان بن گیا ہے۔ اس لیے اس امر کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ نصاب بھی نیا ہو۔اردو زبان و قواعد کی تدریس کے لئے نئے نصاب کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ اردو قواعدوانشاء کی انقلابی تدریس کے لئے نیا نصاب پیش خدمت ہے۔
لفظ
لفظ دو طرح کے ہوتے ہیں؛ کلمہ اور مہمل۔
کلمہ:با معنی اور با مقصد لفظ، مثلاً استعفیٰ، وزیرِ اعظم، آرمی چیف، مارشل لاء، اوئے وغیرہ
مہمل: بے معنی اور بے مقصد لفظ۔ مثلا پارلیمنٹ، جمہوریت، ووٹ۔
کلمے کی قسمیں
کلمے کی بہت سی قسمیں ہیں۔ دو مشہور قسموں کو آپ بھی جانتے ہیں؛اسمِ معرفہ اور اسمِ نکرہ
اسمِ معرفہ: خاص نام۔ مثلاً پی ٹی آئی، عمران خان، ایمپائر، اوئے فلانے، اوئے ڈھمکانے، گلو بٹ وغیرہ۔
اسمِ نکرہ: عام نام۔ مثلاً نواز شریف، تمام وہ لوگ جو پی ٹی آئی اور قائد تحریک انصاف کے مخالف ہیں، سیتا وائیٹ
اسمِ معرفہ کی اقسام
تخلص: ایسا اسم جو بندہ اپنے لیے پسند کرے۔ مثلاً وزیرِ اعظم عمران خان، یاد رہےتخلص کی علامت جلسے جلوسوں میں لایعنی باتیں کرنے والا شخص بھی ہو سکتا ہے۔
خطاب: وہ اسم جو قوم یا حکومت کی طرف سے رکھا جائے،جیسے طالبان خان، ناراض خان،کپتان خان، قائد اعظم ثانی وغیرہ
لقب:وہ اسم جو کسی علم یا ہنر کی وجہ سے پڑ جائے جیسے یو ٹرن خان۔
اسمِ نکرہ کی قسمیں
اسمِ ذات
وہ اسم جس کا تعلق اپنے وجودسےہو،مثلاً عمران خان، انقلاب، دھاندلی
اسمِ استفہام
ایسا اسم جس میں سوال پوچھا جائے۔ مثلاً انقلابی دھرنے میں شامل لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے پھریں “کتنے آدمی تھے؟” “کیا عمران خان وزیرِاعظم بن جائے گا؟”
کلام
جب دو یا دو سے زیادہ کلمات ترکیب پائیں تو اس کو کلام کہتے ہیں۔
کلام کی دو قسمیں ہیں؛ 1۔ناقص، 2۔ تام
کلامِ ناقص:ایسا کلام جس سے سننے والے کو پورا فائدہ حاصل نہ ہو اور بات سمجھ میں نہ آئے۔ جیسے فہد کی کتاب، احمد کا سبق، عمران خان کا خطاب، چوہدری شجاعت کی گفگتو۔
کلامِ تام:جس کے سننےسےپورا فائدہ ہو؛ مثلاً آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز، غیر ملکی ڈونرز کی تنبیہ۔
جملے کی قسمیں
جملےکی مختلف قسمیں ہیں جن میں سے چند اہم قسمیں درج ذیل ہیں:
امر: ایسا جملہ جس میں حکم دیا جائے؛ مثلاً “فریقین کو چاہیے کہ بامعنی مذاکرات کریں۔”
نہی: ایسا جملہ جس میں کوئی کام کرنے سےمنع کیاجائے مثلاً ” آج سے بجلی کے بل ادا مت کرنا۔”
تعجب: ایسا جملہ جس میں حیرانی کا عنصر پایا جائے مثلا ” شام کے سات بج چکے ہیں لیکن لوگ ابھی تک جلسے میں نہیں آئے۔”
تنبیہ: جس میں کسی کو خبردار کیا جائے “اوئے آئی جی، میں تمہارا گریبان پکڑ لوں گا اوئے۔”
انبساط: خوشی کا اظہار کرنا، خیال رہے کہ یہ خوشی فرضی بھی ہو سکتی ہےمثلاً “وہ اوپر دیکھو نواز شریف کا ہیلی کاپٹر جا رہا ہے، وہ ڈر کے بھاگ گیا”یا “مبارک ہو مبارک ہو انقلاب آ گیا۔”
تمنا: خواہش کا اظہار مثلاً “کاش میں کسی بھی طریقے وزیرِ اعظم بن جاؤں۔”
ندا:کسی کو بلانا، آواز دینا۔ ” اوئے نواز شریف”یا “اوئے شہباز شریف۔”
تاسف: افسوس کا اظہار، عموماً ایسا جملہ نجی محافل یا دل میں بولا جاتا ہے۔۔ “کیا میری عقل گھاس چرنے گئی تھی کہ شیخ رشید کو ساتھ ملا لیا۔”
سابقے اور لاحقے
سابقہ: فارسی میں سابقے کو حرفِ پیشوند کہتے ہیں،کلمے کے شروع میں آتے ہیں اور معانی تبدیل کر دیتے ہیں۔ مثلاً انقلاب کی آمد سے پہلے ہی چوہدری برادران کا نمودار ہونا، اردو میں سابقے کو پارٹی بدل لینے کے بعد بہت برا بھلا کہتے ہیں۔
لاحقہ: فارسی میں اسے حرفِ پسوند کہتے ہیں، لفظ کے آخر میں آتے ہیں۔ نہ صرف معنی بلکہ حلیہ بھی تبدیل کر دیتے ہیں، مادرِ اردو محترمہ بے چین شناسی کی تحقیق کے مطابق “اردو لفظ لاحقہ کے لیےکسی دور میں پنجابی کا لفظ “لیچڑ” استعمال ہوتا تھا۔”مادر اردو کی یہ تحقیق اس لیےبھی ٹھیک لگتی ہے کہ ایک اردو لغت میں لاحقے کا مطلب شیخ رشید بھی لکھا ہوا بھی پایا گیا ہے۔
فعل
فعل کی تین مشہور قسمیں ہیں:
ماضی: جس سے گزرا ہوا زمانہ مراد ہو۔ ” کاش میں انگلی کی سیاست نہ کرتا۔”
حال: وہ فعل جس سے موجود زمانہ ذہن نشین ہو۔ مثلاً “آج کل انقلاب کا بازار گرم ہے۔”
مستقبل: جس سے آئندہ زمانہ ذہن نشین ہو۔ مثلاً”بنے گا نیا پاکستان” ” اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول” “میں ایک نہ ایک دن ایسی تقریر ضرور کروں گا جس کی سب کو سمجھ آ جائے” “آئیندہ یو ٹرن نہیں لوں گا۔”
اس کے علاوہ بھی فعل کی کچھ قسمیں ہیں مثلاً
فعل مستقبل شکیہ/احتمالی/خواہشی: جس میں مستقبل کے حوالے سے کوئی شک، خواہش یا گمان پایا جائے۔ مثلاً ” میں کسی سے قرضہ نہیں لوں گا۔” “فیس بک پر ایک صفحہ جس کا نام وزیرِ اعظم عمران خان ہے”۔
پیارے بچو! ان آسان قواعد کو ذہن میں رکھو گے تو امید ہے خواب بھی انقلاب، دھرنے، ڈی چوک اور ڈی جے بٹ کے آئیں گے۔

Blogroll